السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ میرے شوہر کو میں پسند نہیں ہوں، چار سال ہوگئے ہماری شادی کو اور وہ شروع سے ایک ہی بات کرتے ہے کہ تم مجھے اچھی نہیں لگتی، ہماری ایک بیٹی بھی ہے انکا کہنا ہے کہ انہیں موٹی لڑکی چاہیئے تھی ،لیکن میں پتلی ملی تو یہ ان کےگناہوں کی سزا ہے ، اب ایسے میں، میں کیا کروں؟ میں روز روز ایک ہی بات پر لڑ لڑ کر تھک گئی ہوں، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو کہ سائلہ کے شوہر فقط اسے جسمانی کمزوری اور دبلے پتلے ہونے کا طعنہ دیکر اسے اپنے گناہوں کی سزا قرار دے رہا ہو تو ان کا یہ طرزِ عمل شرعاً و اخلاقاً ہر اعتبار سے نہ مناسب اور غلط ہے ، کیونکہ اپنے شریکِ حیات میں یہ تمام تر خوبیاں اور صفات رشتہ کرنے سے قبل دیکھی جاتی ہیں، اور اس پر اطمینان کے بعد ہی رشتہ کیلئے حامی بھری جاتی ہے، لہذا جب سائلہ اور اسکا شوہر باقاعدہ نکاح کے بندھن میں بند چکے ہیں تو اب اس طرح امور کو زیر بحث لاکر اپنا گھر برباد نہ کریں، بلکہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اپنا گھر بسانے اور زندگی پرسکون بنانے کی پوری کوشش کریں ، امید ہے وقت کے ساتھ تمام چیزیں بہتر ہوجائیگی۔
کما قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ الآیۃ (آیتـ 11 سورۃ الحجرات)
وفی سنن الترمذی: عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ المُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الفَاحِشِ وَلَا البَذِيءِ» (باب ما جاء فی اللعنۃ (4/350)
وفی الدر المختار: (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر، وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 227-228 ط: سعید)