میرے دادا کو ایک سرکاری مکان الاٹ کیا گیا تھا جب ان کے پاس ایک سرکاری ملازمت تھی ، جسے وہ اور پھر ان کے بچے 45 سال سے زیادہ استعمال کرتے رہے، اب گھر والوں کے پاس گھر کا استعمال نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے اسے کسی کو بیچ دیا، ان میں سے بہت سے گھروں کو دوسروں نے اس طرح فروخت کیا ہے، کیونکہ حکومت کی طرف سے ان پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ درحقیقت گھر کی چابیاں واپس مل جائیں تو نچلے عہدے کے سرکاری افسران کسی کو بیچ دیتے ہیں، کیا رقم کے عوض مکان کسی کے حوالے کرنا جائز ہے؟ کیا وہ رقم حلال ہوگی؟
نوٹ! سائل سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائل کے دادا کو مذکور زمین محض رہنے کے لئے گورنمنٹ نے دی تھی، بطورِ ملکیت نہیں دی تھی۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحتی نوٹ کے مطابق سائل کے دادا کو سرکاری افسران کی طرف سے دورانِ ملازمت مذکور گھر چونکہ محض رہائش کے لئے دیا گیا تھا، باقاعدہ مالکانہ طور پر نہیں دیا گیا تھا، اس لئے حکومت کی اجازت کے بغیر گھر والوں کا مذکور گھر کو آگے بیچنا شرعاً جائز نہیں اور یہ رقم بھی ان کے لئے حلال نہیں، بلکہ ان پر لازم ہے کہ مذکور رقم خریدار کو دے کر وہ گھر اس سے واپس لے کر حکومت کے حوالہ کردیں۔
قال اللہ تعالی :اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھلِہَا۔ [النساء: ۵۸]۔
وفی المرقاة شرح المشکاة :حق الأمانۃ أن تؤدی إلی أھلہا، فالخیانۃ مخالفۃ لھا (ج 1 ص 126)۔
وفی دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: فلو حصل من المستعير تعد أو تقصير بحق العارية ثم هلكت أو نقصت قيمتها فبأي سبب كان الهلاك أو النقص أي سواء كان بتعد وتقصير أم بسبب آخر أم ماتت الدابة حتف أنفها يلزم المستعير الضمان؛ لأن المستعير لما أصبح في حكم الغاصب فقد تحولت يد أمانته إلى يد ضمان. أي أنه يلزم ضمان مثل العارية إذا كانت من المثليات وقيمتها تامة إذا كانت من القيميات وقيمة النقصان فقط في حال النقصان. الخ ( المادۃ 814 ج 2 ص 350 )۔
وفی المبسوط للسرخسی: "وإن باع الغاصب الولد وسلمه أو أتلفه فهو ضامن لقيمته لوجود التعدي منه على الأمانة كما لو باع المودع الوديعة.(کتاب الغصب،ج11،ص55،ط؛دار المعرفۃ)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0