کاروبار

سرکاری ملازم کا سرکاری گھر کو فروخت کرنا

فتوی نمبر :
76629
| تاریخ :
2024-07-15
معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

سرکاری ملازم کا سرکاری گھر کو فروخت کرنا

میرے دادا کو ایک سرکاری مکان الاٹ کیا گیا تھا جب ان کے پاس ایک سرکاری ملازمت تھی ، جسے وہ اور پھر ان کے بچے 45 سال سے زیادہ استعمال کرتے رہے، اب گھر والوں کے پاس گھر کا استعمال نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے اسے کسی کو بیچ دیا، ان میں سے بہت سے گھروں کو دوسروں نے اس طرح فروخت کیا ہے، کیونکہ حکومت کی طرف سے ان پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ درحقیقت گھر کی چابیاں واپس مل جائیں تو نچلے عہدے کے سرکاری افسران کسی کو بیچ دیتے ہیں، کیا رقم کے عوض مکان کسی کے حوالے کرنا جائز ہے؟ کیا وہ رقم حلال ہوگی؟
نوٹ! سائل سے بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائل کے دادا کو مذکور زمین محض رہنے کے لئے گورنمنٹ نے دی تھی، بطورِ ملکیت نہیں دی تھی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحتی نوٹ کے مطابق سائل کے دادا کو سرکاری افسران کی طرف سے دورانِ ملازمت مذکور گھر چونکہ محض رہائش کے لئے دیا گیا تھا، باقاعدہ مالکانہ طور پر نہیں دیا گیا تھا، اس لئے حکومت کی اجازت کے بغیر گھر والوں کا مذکور گھر کو آگے بیچنا شرعاً جائز نہیں اور یہ رقم بھی ان کے لئے حلال نہیں، بلکہ ان پر لازم ہے کہ مذکور رقم خریدار کو دے کر وہ گھر اس سے واپس لے کر حکومت کے حوالہ کردیں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی :اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھلِہَا۔ [النساء: ۵۸]۔
وفی المرقاة شرح المشکاة :حق الأمانۃ أن تؤدی إلی أھلہا، فالخیانۃ مخالفۃ لھا (ج 1 ص 126)۔
وفی دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: فلو حصل من المستعير تعد أو تقصير بحق العارية ثم هلكت أو نقصت قيمتها فبأي سبب كان الهلاك أو النقص أي سواء كان بتعد وتقصير أم بسبب آخر أم ماتت الدابة حتف أنفها يلزم المستعير الضمان؛ لأن المستعير لما أصبح في حكم الغاصب فقد تحولت يد أمانته إلى يد ضمان. أي أنه يلزم ضمان مثل العارية إذا كانت من المثليات وقيمتها تامة إذا كانت من القيميات وقيمة النقصان فقط في حال النقصان. الخ ( المادۃ 814 ج 2 ص 350 )۔
وفی المبسوط للسرخسی: "وإن باع الغاصب الولد وسلمه أو أتلفه فهو ضامن لقيمته لوجود التعدي منه على الأمانة كما لو ‌باع ‌المودع الوديعة.(کتاب الغصب،ج11،ص55،ط؛دار المعرفۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76629کی تصدیق کریں
0     665
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ڈراپ شپنگ کا حکم - is Drop Shiping Halal in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 3
  • پرپال آن لائن کمپنی کا شرعی حکم - PrPal Earning in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • فاریکس کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • گوہرشاہی والوں کی پروڈکٹ کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ٹیکسی چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • StreamKar ایپ پر لائیوآنے اورکمائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • کاروبار کی نیت سے پرندوں کی خرید و فروخت اور بریڈنگ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • سردی میں خریدے ہوئے پنکھے گرمی میں مہنگے داموں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • حرام مال سے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • پے رول( payroll financing ) فائنانسنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • الیکٹرونکس آلات ٹی وی،ایل سی ڈٰی وغیرہ بیچنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قسطوں پر خرید و فروخت کا درست طریقہ کار

    یونیکوڈ   کاروبار 1
  • آن لائن اپلیکیشن(IDA App)کے ذریعے کاروبار کرکے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • حکیم کا انگریزی دوا پیس کر مریض کو دینا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بائنانس ایپ کے ذریعہ کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قادیانی کو کپڑے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • مروّجہ اسلامی بینکوں کے ساتھ معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ، شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • سگریٹ اور نسوار کاکا روبارکرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بیع عینہ کی تعریف اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • کرپٹو کرنسی میں فیوچر ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • تکافل اور انشورنس میں فرق

    یونیکوڈ   کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات