السلام و علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ میرے والد صاحب نے گھر خریدا تھا جس میں ابھی میں رہتا ہوں , گھر میں سامان تھا والد صاحب کا وہ ہم نے بیچا ہے جس کی رقم 16000 بنی ہے ، اب یہ پیسے تقسیم کرنے ہیں، والدکا انتقال 2017 میں ہوگیا ہے،والدہ کا انتقال 2014 میں ہوگیا ہے ، تین بھائی تھے، جن میں سے ایک بھائی کا انتقال 2021 میں ہوگیا ہے، ان کی شادی نہیں ہوئی تھی ، اور چھ (6) بہنیں تھیں، جن میں سے 2 کا انتقال ہوگیا ہے، دونوں شادی شدہ تھیں ، ایک کی کوئی اولاد نہیں تھی، 2019میں ان کا انتقال ہوا، اور شوہر زندہ ہے، جبکہ دوسری بہن کے 3 بیٹے ہیں، اور شوہر زندہ ہے، ان کا 2022 میں انتقال ہوا، براہِ کرم مجھے تقسیم کا طریقہ بھی بتادیں تاکہ آئندہ اس کے مطابق تقسیم کرسکوں ، جزاک اللّہ خیراً۔
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ ان کے موجود ہ ورثاء میں اصول ِمیراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد، سونا چاندی، زیورات، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کی کل نو ہزار پانچ سو چار(9504) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو ہزار چوبیس (2024) حصے، اور ہر بیٹی کو ایک ہزار بارہ( 1012) حصے ، جبکہ پہلی بیٹی کے شوہر کو تین سو چھیانوے(396) حصے ، ہر نواسے کو دو سو ترپن(253) حصے، اور دوسری بیٹی کے شوہر کو دو سو ترپن(253) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1