میرے ذہن میں اپنی کمائی کے بارے میں تشویش ہے، میں ایک کمپنی میں سافٹ وئیر ڈیولپر کے طور پر کام کرتا ہوں، یہ کمپنی ا سپورٹس بیٹنگ سے متعلق ہے اور ان کی ویب سائٹ پر اسپورٹس بیٹنگ ہوتی ہے، تو کیا یہ حلال ہے یا حرام؟ مجھے اس ویب سائٹ کا فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ بنانا ہے۔
واضح ہو کہ سپورٹس بیٹنگ آن لائن جوا اور سٹہ ہےجو شرعاً ناجائز و حرام ہے، لہذا سائل اگرمذکور کمپنی کے ویب سائٹ کی ڈیزائنگ اور کوڈنگ وغیرہ کا نظام اس طرح مرتب کرتا ہوکہ وہ ویب سائٹ صرف اسپورٹس بیٹنگ اور آن لائن جوا کھیلنے کیلئے ہی قابلِ استعمال ہو اور اس میں اس کمپنی کے مطلوبہ اہداف کے مطابق ہی فیچر وغیرہ شامل کئے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں چونکہ سائل براہِ راست اس ناجائز اور فعلِ حرام کے سر انجام دینے کیلئے اسباب فراہم کررہے ہیں، اس لئے اس کا یہ عمل اعانت علی المعصیۃ (گناہ پر مشتمل افعال میں معاونت) ہونے کی وجہ سے ناجائز اور اس کی آمدنی بھی حرام ہوگی، اس لئے اس طرح کے پروجیکٹ میں حصہ لینے سے بالکلیہ اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: یاأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (المائدۃ:90)۔
وفی أحکام القرآن للجصاص: واما المیسر فقد روی عن علی انہ قال: الشطرنج من المیسر وقال عثمان وجماعۃ من الصحابۃ والتابعین النرد وقال قوم من أھل العلم القمار کلہ من المیسر (إلی قولہ) وحقیقتہ تملیک المال علی المخاطرۃ إلخ( ج: 2، ص: 465، ط: سھیل اکیدمی لاھور)۔
وفی أحکام القرآن للتھانوی: قال العبد الصعیف: الذی ظھر لی بفضل اللہ و منہ فی الفرق بینھما ھو أن ماقامت المعصیۃ بعینہ ھو ماکانت المعصیۃ فی نفس فعل المعین، بحیث لاتنقطع عنہ نسبتھا عن المعین بحیلولۃ الفاعل المختار، سواء وقع عمل المعصیۃ بعین ھذا المحل أو بعد تغییرہ وإحداث صنعۃ فیہ، ھو المستفاد من کلام المبسوط والبدائع والزیلعی والعینی والعنایۃ والکفایۃ والخلاصۃ والمنح ورد المحتار (إلی قولہ) ثم السبب القریب أیضا علی قسمین: سبب محرک وباعث علی المعصیۃ بحیث لولاہ لما أقدم الفاعل علی ھذہ المعصیۃ، کسب آلھۃ الکفار فإنہ سبب محرک وباعث لسب الإلہ الحق جل شأنہ، وسبب لیس کذلک ولکنہ یعین لمرید المعصیۃ ویوصلہ إلی مایھواہ کإحضار الخمر لمن یرید شربہ وإعطاء السیف بید من یرید قتلا بغیر حق، فالقسم الأول حرام بنص القران، والثانی إن کان بحیث یعمل بہ المعصیۃ من دون إحداث صنعۃ منہ یلتحق بہ یکرہ تحریما، وإن کان یحتاج إلی عمل وصنعۃ کرہ تنزیھا فبیع السلاح من أھل الفتنۃ والفساد سبب محرک لإیقاع الفتنۃ فحرام باتفاق الفقھاء، وبیع الحدید وأمثالہ مما یصنع منہ السلاح کرہ تنزیھا کما صرح بہ الفقھاء، انظر ما فی آخر باب البغاۃ من الدر المختار و رد المحتار إلخ( الاستبانۃ لمعنی التسبب والاعانۃ، ج: 3، ص: 77۔79، ط: إدارۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃ )۔
وفی الدر المختار: (ویکرہ) تحریما (بیع السلاح من أھل الفتنۃ إن علم) لأنہ إعانۃ علی المعصیۃ (إلی قولہ) قلت: وأفاد أن ماقامت المعصیۃ بعینہ یکرہ بیعہ تحریما وإلا فتنزیھا بحر۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ لأنہ إعانۃ علی المعصیۃ) لأنہ یقاتل بعینہ، بخلاف مالایقاتل بہ إلا بصنعۃ تحدث فیہ کالحدید ونظیرہ کراھۃ بیع المعازف لأن المعصیۃ تقام بھا عینھا، ولایکرہ بیع الخشب المتخذۃ ھی منہ، وعلی ھذا بیع الخمر لایصح ویصح بیع العنب (إلی قولہ) قلت: لکن ھذہ الأشیاء تقام المعصیۃ بعینھا لکن لیست ھی المقصودۃ الأصلی منھا، فإن عین الجاریۃ للخدمۃ مثلا والغناء عارض فلم تکن عین المنکر،بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلی منہ ھو المحاربۃ بہ فکان عینہ منکرا إذا بیع لأھل الفتنۃ،فصار المراد بما تقام المعصیۃ بہ ماکان عینہ منکرا بلا عمل صنعۃ فیہ إلخ( کتاب الجھاد، باب البغاۃ، ج:4، ص: 268، ط: سعید )۔