کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نور محمد کا انتقال ہوا، جس نے بوقتِ انتقال ساڑھے پانچ ایکڑ زمین اور ایک عدد مکان چھوڑا، ورثاء اس وقت مندرجہ ذیل تھے:
بیوہ، دو(2) بیٹے، تین(3) بیٹیاں موجود تھیں، اس کے بعد بچوں کی ماں کا بھی انتقال ہوگیا، اس وقت ورثاء مندرجہ ذیل تھے:
دو بیٹے، تین بیٹیاں، ایک بھائی بمع اپنی اولاد، اس کے بعد مرحوم کی بیٹی کنیزہ کا بھی انتقال ہوگیا ، اور اس کے ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی موجود تھی، اس کے بعد ان دو بیٹوں میں سےایک بیٹے محمد رستم کا بھی انتقال ہوگیا، جس کے ورثاء مندرجہ ذیل ہیں: بیوی، ایک متبنیٰ (لے پالک) بیٹی، ایک بھائی، دو بہنیں ،دریافت طلب امر یہ ہے کہ باپ اور والدہ کی میراث سے حصہ، زمین وغیرہ جو جائیداد ملی، اس کو ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم کیا جائے گا، نیز محمد رستم مرحوم سرکاری ملازم تھا، جس کا انتقال دورانِ سروس ہوا، اس کے بقایا جات اور پنشن وغیرہ کو کس طرح تقسیم کریں گے یا کہ یہ صرف بیوہ کا حق ہے؟باقی ورثاء ان بقایا جات میں شریک ہوں گے یا نہیں؟ نیز یہ وضاحت بھی کریں کہ اس کی متبنیٰ بیٹی کو شرعی طور پر حصہ ملے گا یا نہیں؟ براہِ کرم جائیداد یعنی ساڑھے پانچ ایکڑزمین اور ایک عدد مکان جو کہ باپ کا تھا، پھر ماں کے انتقال کے وقت جائیداد جو تھی اور خاص کر محمد رستم کے حصہ کی زمین اور گورنمنٹ کی طرف سے دیے گئے بقایا جات ان تمام اشیاء کی تقسیم کو شرعی طور پر واضح کیا جائے، تاکہ ہر وارث کا حصہ معلوم ہوجائے ۔بینوا تؤجروا۔
نوٹ :محمد رستم واپڈا میں ملازم تھا اور دوران سروس ہی مرحوم کا انتقال ہوا ،تو پنشن کے علاوہ ادارے کی طرف سے کچھ رقم ملی ہے ،تو اس رقم کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہوکہ ملازم کی وفات یا ریٹائرمنٹ پر ملنے والی پنشن چونکہ ادارے کی طرف سے بطورِ تبرع ہوتی ہے، اسی طرح پنشن کے علاوہ دیگر فنڈز اگر مرحوم اپنی حیات میں اس کے لینے کا حقدار نہیں بنا تھا تو یہ بھی ادارہ کی طرف سے تبرع ہے ،لہذا مذکور ادارہ پنشن کی رقم اور مذکور فنڈز کیلئے مرحوم (محمد رستم ) کے ورثا ء میں سے جس کو نامزد کردے ،شرعاً وہی اس کا حق دار ہوگا ،اس میں دیگر ورثاء کا شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ،اور نہ ہی ان کو مطالبہ کا حق حاصل ہوگا ، جبکہ ادارے کی طرف سے ملنے والے دیگر فنڈز اگر ایسے ہوں کہ مرحوم زندگی میں اس کے لینے کا حق دار بن چکا تھا (جو متعلقہ ادارہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے ) تو ایسی صورت میں وہ مرحوم کا ترکہ شمار ہوکر تمام ورثا کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا (جیسا کہ آگے آرہا ہے )
جبکہ لے پالک (منہ بولی بیٹی ) چونکہ شرعاً پرورش کرنے والے مرد وعورت کی وراثت میں حق دار نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے حقیقی والدین کی وارث ہوتی ہے، اس لئے مرحوم محمد رستم کی متبنی بیٹی کا اس کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہ ہو گا ۔
کما فی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوۃ من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك اھ (7/283)۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اسکے کل (49) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو چودہ (14)، مرحوم کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7) اور مرحوم کے نواسوں میں سے ہر ایک کو دو(2) اور نواسی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2