میری والدہ جن کی عمر 74 سال ہے،قافلے کے ساتھ حج پر روانہ ہوجاتی ہیں،مگر مناسک کی ادائیگی کے لیے (جوکہ وہ اکیلی ادا کرنے سے قاصر ہے)اپنے بھانجے کا انتظار کچھ دنوں کے لیے کرتی ہے،اس صورت میں رہنمائی فرمائیں کہ عمرہ کی نیت اور احرام کی پابندی کب کریں؟ قافلے کے ساتھ جب میقات سے گزرے یاکچھ دنوں کے ہوٹل میں قیام کےبعد جب بھانجا آجائے تو واپس میقات آکر؟
واضح ہوکہ حج وعمرہ کی نیت سے جانے والےآفاقی کے لیےمیقات پر احرام باندھنا لازم ہے، اگر بغیر احرام میقات سے تجاوز کریگاتو اس پر دم لازم ہوگا،تاہم اگر دوبارہ وہ کسی میقات پرپہنچ کر احرام باندھ لے تو اس سے دم ساقط ہوجائیگا،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی والدہ پر میقات سے گزرتے وقت احرام باندھنا اور اس کی پابندیوں کا خیال رکھنا لازم ہے ،البتہ اگربغیر احرام کے وہ میقات پار کرچکی ہوتو ایسی صورت میں اس پر ایک دم لازم ہوچکا ہے،لہذا اگر بھانجےکے آنے کے بعد کسی قریبی میقات جاکر وہاں سے عمرہ یا حج کااحرام باندھ چکی ہوتو اس سے دم ساقط ہوچکا ہے۔
کمافی الدر المختار: (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة (لا) يحرم (التقديم) للإحرام (عليها) بل هو الأفضل الخ(ج2 ص476 کتاب الحج ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: قال في فتح القدير: وإنما كان التقديم على المواقيت أفضل لأنه أكثر تعظيما وأوفر مشقة والأجر على قدر المشقة ولذا كانوا يستحبون الإحرام بهما من الأماكن القاصية.روي عن ابن عمر: أنه أحرم من بيت المقدس وعمران بن الحصين من البصرة وعن ابن عباس أنه أحرم من الشام وابن مسعود من القادسية وقال - عليه الصلاة والسلام - " «من أهل من المسجد الأقصى بعمرة أو حجة غفر الله له ما تقدم من ذنبه» رواه أحمد وأبو داود بنحوه. اهـ. (قوله إن في أشهر الحج) أما قبلها فيكره وإن أمن على نفسه الوقوع في المحظورات لشبه الإحرام بالركن كما مر (قوله وأمن على نفسه) وإلا فالإحرام من الميقات أفضل بل تأخيره إلى آخر المواقيت على ما اختاره ابن أمير حاج كما قدمناه الخ(ج2 ص478 کتاب الحج ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (قوله وحرم إلخ) فعليه العود إلى ميقات منها وإن لم يكن ميقاته ليحرم منه، وإلا فعليه دم كما سيأتي بيانه في الجنايات الخ(ج2 ص477 کتاب الحج ط: سعید)۔