: کیا بیوی کا نان نفقہ اس کے والد کی حیثیت کے حساب سے اس کو شوہر دے گا یا شوہر کی حیثیت کے مطابق ملے گا اسے؟
2: اگر ایک شخص کی دو بیویاں ہوں اور ان دونوں کے والد کی مالی حیثیت میں فرق ہو تو کیا دونوں بیویوں کا خرچ برابر نہیں ہوگا؟ ایک مفتی صاحب نے کتاب میں لکھا ہے کہ بیویوں میں برابری شوہر کی مالی حیثیت کے حساب سے نہیں ہوگی بلکہ اگر ایک بیوی امیر گھرانے سے تھی تو اس حساب سے نان نفقہ ہوگا،دوسری غریب تھی تو اس کو امیر بیوی کے برابر نان نفقہ دینا ضروری نہیں ہے،بلکہ اس کے والد کی مالی حیثیت کے حساب سے دینا کافی ہے۔
3: کتاب میں مزید لکھا ہے کہ ایک سے زائد شادیوں کے لیے مالی استطاعت ضروری نہیں ہے،مثال یہ دی گئی کہ نبی ﷺ کے گھر تو کھانے کو اکثر کھجور بھی نہیں ہوتی تھی،اور امہات المؤمنین رضوان اللہ علیھن کے ساتھ خرچ کے معاملے والا واقعہ لکھا ہے،کیا یہ عام مسلمان کے لیے بھی ہے کہ وہ مالی حیثیت نہ بھی ہو تو ایک سے زائد نکاح کرلے؟ مالی حیثیت سے مراد جو ایک مڈل کلاس گھر کا خرچ بھی نہ اٹھا سکتا ہو،یعنی بیوی کی حیثیت اس کے والد کے گھر کی تھی،اتنا خرچ بھی نہ اٹھا سکتا ہو تو کیا تب بھی وہ دوسری شادی کرسکتا ہے؟
(2،1) نان نفقہ میں شوہر اور بیوی دونوں کی حیثیت کا اعتبارہوتا ہے،عرف میں ان دونوں کی حیثیت کے حامل لوگ جس طرح کپڑے پہنتے ہوں اور جس قسم کا کھانا کھاتے ہوں،اس طرح کے کپڑے اور کھانا بیوی کو دینا شوہر پر لازم ہوگا،لہذا ان دونوں کی مالی حیثیت ایک جیسی ہو تو اسی حیثیت کے مطابق نان نفقہ دینا ہوگا،اور اگر ان دونوں کی حیثیت مختلف ہو مثلاً ایک مالدار اور دوسرا متوسط الحال یا غریب ہو تو پھر درمیانی حالت کا اعتبار ہوگا یعنی مالداروں سے کم اور متوسط الحال یا غریب سے زیادہ حیثیت کا نان نفقہ دیا جائیگا،کپڑوں کی مقدار اور معیار میں بھی میاں بیوی کی حیثیت اور ان کے عرف کا لحاظ رکھا جائےگا،جبکہ دو یا زائد شادیوں کی صورت میں نان نفقہ کی تقسیم میں برابری کرنا واجب ہے،جس پر کسی بیوی کے والدین کے خوشحال یا تنگدست ہونے سے فرق نہیں پڑتا،لہذا یک سے زائد شادیوں کی صورت میں نان نفقہ کی تقسیم میں عورت کے میکہ کے حالات کو معیار قراردینا شرعاً درست نہیں۔
(3) شریعتِ مطہرہ نے کسی بھی مرد کو ایک سے زائد چار تک شادیاں کرنے کی اجازت اس صورت میں دی ہے جب وہ انصاف کرسکے،جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب بیویوں کے تمام واجبی حقوق خوش اسلوبی سے برابری کے ساتھ ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو،لہذا دوسری شادی کے لیے مالی استطاعت سے قطع نظر محض جسمانی طاقت کو ہی مطلوب قراردینا مزاج شریعت سے ناواقفیت کی علامت ہے،اس لیے اگرکوئی شخص مالی استطاعت کی کمزوری کی بنیاد پر اپنی بیویوں کو ان کی مالی حیثیت کے مطابق نان ونفقہ کی ادائیگی یا ان میں برابری پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں،جبکہ حضورﷺ اور ازواجِ مطہرات کا فقر اختیاری تھا،وہ سب کچھ ہونے کے باوجود راہِ خدا میں خرچ کرکے فاقہ کشی کرلیتے تھے،اس لیے اپنے حالات کو ان پر قیاس کرنا قرینِ انصاف نہیں۔
قال اللہ تعالی: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا } [النساء: 3]۔
وفی أحكام القرآن للجصاص: وأما قوله تعالى فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة فإن معناه والله أعلم العدل في القسم بينهن لما قال تعالى في آية أخرى ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل والمراد ميل القلب والعدل الذي يمكنه فعله ويخاف أن لا يفعل إظهار الميل بالفعل فأمره الله تعالى بالاقتصار على الواحدة إذا خاف إظهار الميل والجور ومجانبة العدل وقوله عطفا على ما تقدم من إباحة العدد المذكور بعقد النكاح أو ما ملكت أيمانكم يقتضي حقيقته وظاهره إيجاب التخيير بين أربع حرائر وأربع إماء بعقد النكاح فيوجب ذلك تخييره بين تزويج الحرة والأمة الخ(ج2 ص348 سورۃ النساء ط: دارإحیاء التراث العربی)۔
وفیہ أیضاً: والعول الميل الذي هو خلاف العدل لخروجه عن حد العدل وعال يعول إذا جار وعال يعيل إذا تبختر وعال يعيل إذا افتقر حكى لنا ذلك أبو عمر غلام ثعلب وقال الشافعي في قوله تعالى ذلك أدنى ألا تعولوا معناه أن لا يكثر من تعولون قال وهذا يدل على أن على الرجل نفقة امرأته وقد خطأه الناس في ذلك من ثلاثة أوجه أحدها أنه لا خلاف بين السلف وكل من روي عنه تفسير هذه الآية أن معناه أن لا تميلوا وأن لا تجوروا وأن هذا الميل هو خلاف العدل الذي أمر الله به من القسم بين النساء الخ(ج2ص350 سورۃ النساء ط: دارإحیاء التراث العربی)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة قالت: ما شبع آل محمد من خبر الشعير يومين متتابعين حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ". متفق عليه(ج3 ص1443 کتاب الرقاق ط: المکتب الاسلامی)۔
وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (وعن عائشة قالت: ما شبع آل محمد) أي: أهل بيته من حرمه وخدمه (من خبز الشعير) فمن البر بالأولى (يومين متتابعين) أي: بل إن حصل الشبع يوما وقع الجوع يوما بناء على ما اختاره صلى الله تعالى عليه وسلم حين عرض عليه خزائن الأرض وأن يجعل جبال مكة ذهبا فاختار الفقر قائلا: أجوع يوما فأصبر وأشبع يوما فأشكر، لأن الإيمان نصفان نصفه شكر ونصفه صبر، كما قال تعالى: {إن في ذلك لآيات لكل صبار شكور} [إبراهيم: 5] أي: لكل مؤمن كامل بالوصفين عالم وعامل، (حتى) أي استمر عدم الشبع على الوجه المذكور حتى (قبض رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم) أي ودرعه مرهونة عند يهودي في جملة صاع من الشعير وفيه رد على من قال: صار صلى الله تعالى عليه وسلم في آخر عمره غنيا، نعم وقع مال كثير في يده لكنه ما أمسكه بل صرفه في مرضاة ربه، وكان دائما غني القلب بغنى الرب الخ(ج8 ص3278 باب فضل الفقراء ط: دارالفکر)۔
وفی الفتاوى الهندية: وإذا أراد الفرض، والزوج موسر يأكل الخبز الحواري واللحم المشوي، والمرأة معسرة، أو على العكس اختلفوا فيه والصحيح: أنه يعتبر حالهما كذلك في الفتاوى الغياثية وعليه الفتوى حتى كان لها نفقة اليسار إن كانا موسرين، ونفقة العسار إن كانا معسرين، وإن كانت موسرة، وهو معسر لها فوق ما يفرض لو كانت معسرة، فيقال له: أطعمها خبز البر وباجة أو باجتين، وإن كان الزوج موسرا مفرط اليسار نحو أن يأكل الحلواء، واللحم المشوي والباجات وهي فقيرة كانت تأكل في بيتها خبز الشعير لا يجب عليه أن يطعمها ما يأكل بنفسه، ولا ما كانت تأكل في بيتها، ولكن يطعمها خبز البر وباجة (الی قولہ) قال في الكتاب: وكل جواب عرفته في فرض النفقة من اعتبار حال الزوج، أو اعتبار حالهما فهو الجواب في الكسوة كذا في الذخيرة. الخ(ج1 ص547/548 کتاب الطلاق،الباب السابع عشر فی النفقات ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: وكذلك لو بذل الزوج للواحدة مالا على أن تبذل نوبتها لصاحبتها أو بذلت هي المال لصاحبتها لتترك نوبتها لا يجوز والمال يسترد كذا في التتارخانية (الی قولہ) وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لا يخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية. والمستحب أن يسوي بينهن في جميع الاستمتاعات من الوطء والقبلة وكذا بين الجواري وأمهات الأولاد ولا يجب شيء كذا في فتح القدير.(ج1 ص341 کتاب النکاح،الباب الحادی عشر فی القسم ط: ماجدیۃ)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله: أي القدرة على وطء)) وزاد المهر والنفقة؛ لأن العجز عنهما يسقط الفرض فيسقط السنية بالأولى، وفي البحر والمراد حالة القدرة على الوطء، والمهر والنفقة مع عدم الخوف من الزنا والجور وترك الفرائض والسنن، فلو لم يقدر على واحد من الثلاثة أو خاف واحدا من الثلاثة أي الأخيرة فليس معتدلا فلا يكون سنة في حقه كما أفاده في البدائع. اهـ.(ج3 ص7 کتاب النکاح ط: سعید)۔