السلام علیکم مفتی صاحب! مجھے آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے ،میں پیدائشی طور پرمرگی کی مریضہ ہوں،مجھے بچپن میں ایک وقت میں 100 مرگی کے جھٹکے لگتے تھے جو علاج کے ساتھ کم ہو ا لیکن ختم نہیں ہوا،میں اب شادی شُدہ ہوں اور میری حالت ابھی بھی وہی ہے،مجھے مرگی کے جھٹکے لگتے ہیں ،اللہ کے کرم سے میرے تین بچے ہیں،2 جڑواں جو ،اب 10 سال کے ہو گئے ہیں ،اورایک ابھی نومبر میں دنیا میں آیاہے، میرے حمل ہمیشہ خطرے والے رہے ہیں اور عام حمل سےبھی زیادہ پریشانی ہوتی ہے، ظاہر ہے اس میں پیسہ بھی بہت لگایاہے جو میری گنجائش سے باہر ہے،ابھی تیسری ڈلیوری کے بعد ڈاکٹروں نے بولا ہے کہ اب آپ دوبارہ خطرہ نہیں لینا حمل کا،مجھے آپ بتائیں اسلام کی رو سے اگر میں احتیاطی تدابیر اختیار کرلوں اپنی بیماری کی وجہ سے تو کیا یہ صحیح ہوگا؟اگر نہیں تو براہ مہربانی کوئی حل تجویز فرمائیں، آپ کی نوازش ہو گی ۔
صور ت مسؤلہ میں اگر وا قعۃً ماہر دیندار اور دیانتدار ڈاکٹر نے سائلہ کو مذکور بیماری کی وجہ سے مزید بچے جننے سے منع کیا ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں عارضی موانع حمل اختیار کرنے کی گنجائش ہے ،لیکن اگر اس کے باوجود حمل ٹھہر جائے تو حمل میں جان پڑنے سے پہلے پہلے (چارماہ سے پہلے)اسقاط کی گنجائش ہے ،تاہم اگر کسی مواقع پر حمل کو چار ماہ ہو جائیں تو اس کے بعد کسی بھی صورت میں حمل ساقط کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ،بلکہ یہ ایک زندہ انسان کا قتل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے
کما فی ردالمحتار:تحت (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح. (مطلب في حكم العزل ج3 ص176 ط:سعید)۔