میری عمر 20 سال ہے اور میں آج کے بے حیائی کے دور میں زنا ، خود لذتی اور بد نظری سے بچنے کے لئے نکاح کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے گھر والے کہتے ہیں کہ تم ابھی بچے ہو تم کوئی نوکری نہیں کرتے، تو ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاچاہیئے؟ کیا میں گھر والوں کو بتائے بغیر کسی لڑکی سے شادی کرلوں یا پھر خود لذتی سے گزارہ کروں؟ کیونکہ میرا اپنے نفس پر بالکل بھی کنٹرول نہیں۔ مجھے کوئی مجرب وظیفہ بھی بتائیں کہ ایسی صورت میں اپنے والدین اور گھر والوں کو کیسے راضی کروں ؟ جزاک اللہ ۔
زنا کی طرح خود لذتی بھی حرام ہے، حدیث شریف میں ایسے شخص پر لعنت وارد ہوئی ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ سائل کو چاہیئے کہ کوئی ملازمت اختیار کر کے اپنی شادی کا خرچ اور شادی کے بعد بیوی کے نان نفقہ کا بندو بست کرے اور با ادب طریقے سے والد یا گھر کے بڑوں کو بتادے کہ میرے لئے مناسب رشتہ ڈھونڈ کر میری شادی کرادیں ، اچھا رشتہ ڈھونڈنا والد کی ذمہ داری ہے اور شادی اور بیوی کے نان نفقہ کا بندو بست کرنا سائل کی ذمہ داری ہے، پھر یہ بات خاص کر آج کل کے زمانہ میں بکثرت مشاہدہ میں آئی ہے اور ویسے بھی والدین کی ناراضگی کے نتائج بھی مسلم ہیں کہ جو شادی والدین کی رضا مندی کے بغیر کی جائے اس میں برکت نہیں ہوتی ، بسا اوقات نوبت طلاق تک پہنچتی ہے، لہذا اس سے سائل کو احتراز چاہیئے ، اور جب تک شادی کا انتظام نہ ہو اس وقت تک سائل روزے رکھا کرے اور گرم غذاؤں اور بری صحبتوں سے پر ہیز کرے چنانچہ سائل کا خود لذتی کو ہی واحد متبادل اور حل سمجھ لینا انتہائی نا معقول بات ہے، جبکہ شادی میں آسانی کے لیے روزانہ یہ وظیفہ " رَبِّ إِنِّي لِمَا أنزلت إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٍ " 313 مرتبہ پڑھا کرے، اور پنج وقتہ نمازوں کی پابندی بھی کیا کرے تو ان شاء اللہ معاملہ بہتر ہو جائے گا۔
كما في تفسير ابن كثير: عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «سبعة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولا يجمعهم مع العالمين، ويدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا ومن تاب تاب الله عليه الناكح يده اھ (5/ 404)۔
و في الجامع لأحكام القرآن: {أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} في موضع خفض معطوفة على {أَزْوَاجِهِمْ} و {مَا} مصدرية. وهذا يقتضي تحريم الزنى وما قلناه من الاستنماء اھ (12/ 106)۔
و في إعلاء السنن: الحديث ورد في باب من تاقت نفسه إلى النكاح ، فإما أن ينكح إن قدر على مؤنته، وإما أن يصوم إن لم تقدر عليها، ان لم تقدر عليها اھ (۱۱/ ۲) -
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه» اھ (2/ 939)-
و في الدر المختار: (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع اھ (3/ 6)-