میری شادی کو چار سال ہو گئے ہیں، میں ایک بچہ چاہتی ہوں میرے میاں نہیں مانتے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی تربیت نہیں کر سکتے، میں نے انکو اپنے نکاح کا واسطہ دے کر کہا کہ میرا حق ہے، اسکے بارے میں کیا حکم ہے کہ وہ مانتے نہیں ہیں؟ کیا انہوں نے بیوی کے نکاح کا حق ادا کیا؟
واضح ہو کہ اولاد کی پیدائش اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت اور نکاح کے مقاصد میں سے ہے، اس کی نبی کریم ﷺ نے ترغیب بھی بیان فرمائی ہے، اس لئے سائلہ کے شوہر کا فقط تربیت نہ کرنے کے شبہ سے اولاد کی پیدائش سے گریز کرنا نعمتِ الہی کی ناقدری کے ساتھ بیوی (سائلہ) کی بھی حق تلفی ہے، اس لئے سائلہ کے شوہر کو اپنے اس طرزِ عمل سے احتر از چاہیئے ۔
کما في فتح القدير: وحكمه الملك والحل والتوالد والتناسل من المقاصد وهو أفضل من التخلى لنفل العبادة۔اھ (3/98)
وفي بدائع الصنائع: لأنه سبب لصيانة النفس عن الفاحشة، وسبب لصيانة نفسها عن الهلاك بالنفقة، والسكنى، واللباس، لعجزها عن الكسب، وسبب لحصول الولد الموحد. وكل واحد من هذه المقاصد مفضل على النوافل۔اھ (2/229)
وفي الدر المختار: (والإذن في العزل) وهو الإنزال خارج الفرج (لمولى الأمة لا لها) لأن الولد حقه، وهو يفيد التقييد بالبالغة وكذا الحرة نهر. (ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة نهر بحثا (بإذنها) لكن في الخانية أنه يباح في زماننا لفساده قال الكمال: فليعتبر عذرا مسقطا لإذنها۔اھ (3/175)