کیا فرماتے ہےمفتیان کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب مسمی مجیب الرحمن دُلال کا انتقال ہو چکا، بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں بیوہ مسماۃ ساجدہ بیگم ، والد عبد المنان ، والدہ مسماۃ جہان آرا بیگم ، ایک بیٹا معظم حسین اور ایک بیٹی نجم النہار موجود تھیں، اب والد صاحب کا ترکہ شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں البتہ اگر یہ مصارف کسی شخص نے تبرعاً ادا کیے ہو تو اب وہ ترکے سے منہا نہ ہوں گے ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو یا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کےوالد اور والدہ میں سے ہر ایک کو بارہ (12) حصے ، بیوہ کو نو (9 ) حصے ، بیٹے کو چھبیس (26) حصے اور بیٹی کو تیرہ(13) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2