السلام علیکم!
میری شادی کو آٹھ سال ہوگئے، میری دو بیٹیاں ہیں، ایک چار سال کی اور ایک پانچ مہینہ کی ہوئی ہے، پانچ مہینہ پہلے میرے شوہر نے دوسری شادی کرلی اور دوسری بیوی ہم سے ملنے نہیں دیتی ہے، نہ وہ ہمارے پاس رہتے ہیں، اس صورت میں میرے شوہر کے لئے کیا حکم ہے۔
واضح ہو کہ جس مرد کی دو یا دو سے زائد بیویاں ہوں تو اُسے تمام بیویوں کے درمیان برابری اور ہر ایک کا حق ادا کرنا شرعاً لازم و ضروری ہے،چنانچہ اگر ایک بیوی کے پاس ایک رات گزارے تو دوسری کے پاس بھی ایک رات گزارے، ایک کے پاس دو یا تین راتیں رہا تو دوسری کے پاس بھی دو یا تین راتیں رہے، جتنا ایک کو مال وغیرہ دیا ہے، تو دوسری کو بھی اتنا ہی دے، البتہ دن کے وقت برابری کے ساتھ ان کے پاس رہنا لازم نہیں، لیکن اگر مرد کی ملازمت کی ترتیب رات کو ہو، تب دن کو بھی برابری کرنا ضروری ہوگا، ان کے مابین برابری نہ کرنے پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں اور اخروی سزائیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا سائلہ کے شوہر پر دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی میں مساوات سے کام لینا ضروری ہے، بصورتِ دیگر وہ سخت گناہ گار ہوگا، اس پر لازم ہے کہ سابقہ غفلت سے بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے، دونوں بیویوں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے، تاکہ اخروی مؤاخذہ سے محفوظ ہوسکے۔
قال اللہ تعالیٰ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا اھ ( سورۃ النسآء الایۃ 3 )۔
وفی سنن ابی داؤد: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما، جاء يوم القيامة وشقه مائل» اھ ( ج 2 ص 242 ط: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت)۔
وفی بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة. الخ ( ج 3 ص 332 ط: دارالکتب)۔