میرے پاس بلیاں ہیں، وہ اکثر بچے دیتی ہیں، میں اتنی بلیاں نہیں پال سکتی، اس وجہ سے میں ان کے بچے بیچ کر ان سے بلیوں کا کھانا خرید لیتی ہوں، تو کیا میں وہ بچے بیچ سکتی ہوں؟ فری میں کسی کو بچے دوں تو وہ خیال نہیں کرتے، پھر پیسوں سے لیتے ہیں تو خیال کرتے ہیں۔
واضح ہو کہ بلیوں کی خرید و فروخت اور کاروبار کے ذریعہ نفع کمانا شرعاً جائز اور درست ہے ، بشرطیکہ ان کے کھانے پینے کا پورا خیال رکھا جائے ۔
کمافی التنویر مع الدر: (وصح بيع الكلب) ولو عقورا (والفهد) والفيل والقرد (والسباع) بسائر أنواعها حتى الهرة وكذا الطيور إلخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله حتى الهرة) لأنها تصطاد الفأر والهوام المؤذية فهي منتفع بها فتح اھ (ج5، صـــ227، ط:سعید)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیۃ: وأما الھرۃ فقد ذکر شیخ الإسلام: یجوز بیعھا، وسئل عطاء بن أبی رباح عن ثمن الھرۃ؟ فقال: لا بأس بہ وفی البرھانیۃ: یجوز بیع الحیوانات سوی الخیزیر، وھو المختار لأنہ منتفع بھا، ولو استأجر السباع جاز، لأنہ منتفع بھا اھ (ج8، صـــ339، ط:رشیدیۃ)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0