السلام علیکم! ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ نماز اونچی آواز سے پڑھتے ہیں کہ ساتھ والے آدمی کو سنائی دیتا ہے جس سے ساتھ کھڑا آدمی بھولنے لگتا ہے، کیا یہ جائز ہے یا نماز دل میں پڑھی جائے اور ساتھ کھڑے آدمی کو سنائی نہ دے؟ آپ کے جواب کا منتظر!
اتنی اونچی آواز سے جہر کرنا کہ اپنے کانوں تک سنائی دے بلاشبہ جائز ہے، مگر منفرد کا اس سے زائد آواز کہ اس سے ساتھ کھڑے شخص کی نماز میں خلل پڑنے لگے قطعاً درست نہیں، لہٰذا ان احباب کو اپنے مذکور ناپسندیدہ عمل سے احتراز کی اشد ضرورت ہے۔
ففی حاشیة الطحطاوی: (والمنفرد بفرض مخیر فیما یجهر) فإن شاء جهر لأنه إمام نفسه لکن لا یبالغ فی الجهر مثل الإمام لأنه لا یسمع غیره اھ (ص: ۱۳۸)
وفی الفتاوى الهندية: وكذا يجهر في التراويح والوتر إن كان إماما وإن كان منفردا إن كانت صلاة يخافت فيها يخافت حتما هو الصحيح وإن كانت صلاة يجهر فيها فهو بالخيار والجهر أفضل ولكن لا يبالغ مثل الإمام؛ لأنه لا يسمع غيره. كذا في التبيين اھ (1/ 72)
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0