میری بیوی مجھے قریب نہیں آنے دیتی، مجھے بیوی سے بوس کنار اور صحبت کرنا اچھا لگتا ہے، مگر وہ مجھے بہت ازیت دیتی ہے، اور مجھ سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہے، میں ایک مکمل مرد ہوں مجھ میں کوئی خامی نہیں، پھر بھی میری سمجھ سے باہر ہے، میں بیوی کی تمام ضروریات وخواہشات کو بھی پورا کرتا ہوں، پھر بھی مجھ سے ایسا رویہ سمجھ سے باہر ہے۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اور سائل کی بیوی بغیر کسی عذر اور بیماری کے سائل کو ازدواجی حقوق کی ادائیگی سے روکتی ہو، تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، احادیث مبارکہ میں ایسی عورت کے متعلق سخت قسم کی وعید وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں آتاہے کہ جب شوہر بیوی کو (ہمبستری کیلئے) اپنے بستر پر بلائے اور وہ(بغیر کسی عذر کے آنے سے)انکار کردے، جسکی وجہ سے شوہر غصے اور ناراضگی کی حالت میں رات گزارے تو اس عورت پر صبح تک فرشتےلعنت کرتے ہیں، لہذا سائل کی بیوی کو چاہیے کہ بلاکسی عذرکے شوہرکو ازدواجی حقوق کی ادائیگی سے نہ روکے، جبکہ سائل کو بھی چاہیے کہ بیوی کی صحت اور آرام وراحت کی رعایت رکھنے کی کوشش کرے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ ﷺ: : اذا دعا الرجل امراتہ الی فراشہ فابت فبات غضبان لعنتھا الملائکۃ حتی تصبح" الحدیث (ج2 رقم: 3246 باب عشرۃ النساء ط: بشری)۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ویسن لکل من الزوجین تحسین الخلق لصاحبہ والرفق بہ واحتمال اذاہ وسوء طباعہ لقولہ تعالی: (والصاحب بالجنب) ای احسان لہ والحدیث المتقدم "استوصوا بالنساء خیرا" (الی قولہ) واخرج مسلم عن جابر بن عبد اللہ ان رسول اللہ ﷺ قال: "لایفرک مؤمن مؤمنۃ ان کرہ منھا خلقا آخر ای لایبغضھا الخ (ج7 صـ330-331 الباب الاول الزواج واثارہ ط: رشیدیۃ)۔