السلام علیکم
مولانا، میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ماہر ہوں۔ حال ہی میں میں نے کینیڈا کی تنظیم اور اس کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ہے جو بھنگ اور بھنگ سے متعلق مصنوعات جیسے سگریٹ، واپورائزر وغیرہ فروخت کر رہا ہے مجھے نہیں معلوم کہ ہم "کینابس" کو اردو میں کیا کہتے ہیں اس لئے میں نے انگریزی میں لکھا۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ یہ کمائی کا حلال طریقہ ہے؟
سوال میں مذکور اشیاء (بھنگ، واپورائزر وغیرہ) (cannabis, vaporizer etc) کی خرید وفروخت کی کینیڈا سمیت بعض ممالک نے طبی فوائد کے حصول کی خاطر مشروط اجازت دے رکھی ہے لہذا اگر یہ کمپنی حکومت کی اجازت سے کسی جائز مقصد مثلا دوا وغیرہ میں استعمال کے لئے یہ کاروبار کرتی ہو تو اس صورت میں اس کمپنی میں ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے تاہم معاشرے میں ان اشیاء کا عمومی استعمال مضر صحت منشیات کے طور پر ہی ہوتا ہے اور بیشتر ممالک میں یہ بطور منشیات ہی متعارف ہیں ، اس لئے ان کی عام خرید و فروخت نشہ آور اور مضر صحت ہونے کی وجہ سے حرام ہے اس لئے مذکور کمپنی کاکاروبار اگر کسی جائز مقصد کے لئے نہ ہو تو سائل کا اس کاروبار سے منسلک ہونا خواہ ڈیجیٹل مارکٹینگ کے ذریعہ ہی ہو ایک قسم کی گناہ کے کام پر معاونت ہے اور گناہ پر کسی بھی قسم کی معاونت کرنا جائز نہیں، لہذا سائل کو چاہیئے کہ ایسے کام کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے کوئی دوسراحلال وپاکیزہ ذریعۂ معاش اختیار کرنے کی کوشش کرے ۔
کما قال اللہ تعالی: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ الآیۃ (آیتـ 2 سورۃ المائدۃ)
وفی رد المحتار: (قوله: مالا أو لا) إلخ، المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا الخ (کتاب البیوع ج 4 صـ 501 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: (قوله: مرغوب فيه) أي ما من شأنه أن ترغب إليه النفس وهو المال (إلی قولہ) والحاصل أن الموقوف مطلقا بيع حقيقة، والفاسد بيع أيضا وإن توقف حكمه، وهو الملك على القبض الخ (کتاب البیوع ج 4 صـ 502،503 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون (إلی قولہ) (وتضمن) هذه الأشربة (بالقيمة لا بالمثل) لمنعنا عن تملك عينه وإن جاز فعله، بخلاف الصليب حيث تضمن قيمته صليبا لأنه مال متقوم في حقه الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية الخ (کتاب الأشربۃ ج 6 صـ 454 ط:سعید)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0