کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے،جس کے ورثاء میں دو بھائی اور ایک بہن موجود ہے،جبکہ اس کی بیوی کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے،ان کا ترکہ مذکور ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا؟
مرحوم بھائی نے ایک لےپالک لڑکی لی ہوئی تھی،جس کے تمام سرکاری وغیر سرکاری کاغذات میں والد کی جگہ اپنا نام درج کروایا ہوا ہے،اس کو ترکہ سے کچھ حصہ ملے گا یا نہیں؟ جبکہ داماد نے زیور اور مکان وغیرہ کے کاغذات پر قبضہ کر رکھا ہے،اور دعوی کررہا ہے کہ اس سب پر ہمارا حق ہے،شرعاً ان کا یہ رویہ درست ہے یا نہیں؟
مرحوم کی تین بہنیں پہلے انتقال کرگئی ہیں،ان کے بچوں کو کوئی حصہ ملے گا یا نہیں؟
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولی بیٹی حقیقی اولاد کی طرح حصہ دار نہیں ہوگی،بلکہ اپنے حقیقی والدین کے ترکہ میں حصہ دار ہوتی ہے،لہذا سائل کے مرحوم بھائی نے جو لڑکی گودلی تھی ،وہ شرعاً مرحوم کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوگی ،چنانچہ مذکور لڑکی کے شوہر کا مرحوم کے ترکے پر قبضہ جماکر شرعی ورثاء کو ان کا حق نہ دینا شرعاً جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے،جبکہ مرحوم کی جو بہنیں ان کی زندگی میں انتقال کرچکی ہیں،ان کی اولادیں شرعاً مرحوم کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہونگی ،البتہ اگر مرحوم کے ورثاء اپنے بھانجوں،بھانجیوں یا مرحوم کی لےپالک بیٹی کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کےمرحوم بھائی کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل پانچ (5) حصے بنائےجائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر بھائی کو دو (2 ) حصے، اور بہن کوایک (1 ) حصہ دیا جائے -
وفی التفسیر المظھری: فلایثبت بالتبنی شیئ من احکام البنوۃ من الارث وحرمۃ النکاح وغیر ذلک (ج7 ص273 سورۃ الاحزاب)۔
وفی الھندیۃ: وأما حکمہ: فالاثم والمغرم عند العلم وان کان بدون العلم بان ظن ان المأخوذ مالہ او اشتری عینا ثم ظھر استحقاقہ فالمغرم ویجب علی الغاصب رد عینہ علی المالک الخ (ج5 ص119 کتاب الغصب الباب الاول ط: ماجدیہ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2