کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ، کہ اگر کسی عورت کا شوہر ظالم ہو ،نان و نفقہ نہ دیتا ہو، اسی طرح دیگر حقوق کی طرح حقوق زوجیت بھی ادا نہ کرتا ہو، اور طلاق یا خلع بھی دینے پر تیار نہ ہو ، تو ایسی عورت کے لئے اس ظالم شوہر سے خلاصی کا کیا طریقہ کا ر ہے ؟ کیا وہ عدالت سے خلع لے سکتی ہے ؟ اگر عدالتی خلع معتبر نہیں ہے ، تو تنسیخ نکاح سے اس عورت کا نکاح ختم ہو جائیگا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ اگر کسی عورت کا شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان و نفقہ کی ادائیگی سے انکار کرے، جس کی وجہ سے بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو ، تو ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ ،عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے علیحدگی حاصل کرے ، لیکن اگر شوہر نہ تو حقوق ادا کر رہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع دینے پر راضی ہو ،تو ایسی صورت میں شوہر متعنت کہلا تا ہے ، اور متعنت کی بیوی کو عدالت سے فسخ نکاح کرنے کا اختیار ہے ، جس کا طریقہ کار یہ ہیکہ مذکور عورت کی طرف سے عدالت میں "فسخ نکاح " کی درخواست جمع کرائی جائے ، اور قاضی (جج) تنسیخ نکاح کی ضروری کاروائی کے بعد اگر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کردے ،تو یہ ڈگری شرعاً بھی معتبر ہو گی ، اور اس ڈگری سے طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا ۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ (سورۃالبقرۃآیت 228)۔
وفی الھدایۃ: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به(باب الخلع ج 2 ص96 ط: انعامیہ)۔
وفی الحیلۃ الناجزۃ: ان المتعنت اذا رجع عن التعنت بعد العدۃ فالمرأۃ لاترجع الیہ بحال کما ھو مذکور فی ھذاالمقام الغائب المطلق علیہ اذا قدم بعد العدۃ واثبت خلاف ما ادعتہ فالمرأۃ لہ وان عاند بعد ما ارسل الیہ الحاکم(ص73 ط : دارالاشاعت)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1