السلام علیکم !میرے شوہر کی دو شادیاں ہیں، شریعت کی رو سے انہیں دونوں پر برابر خرچ کرنا چاہیئے ، اگر وہ ایک بیوی کو اس کے والدین کے گھر دوسرے شہر لے جانے پر 5000 خرچ کرتے ہیں تو کیا دوسری بیوی سے برابری کی غرض سے یہ رقم ان پر واجب الادا ہو گی؟ جبکہ دوسری بیوی کا میکہ جانے کا خرچ 450 روپے ہے، براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں، اگر ایک بیوی اپنی مرضی سے 15 دن کے لیے میکے جاتی ہے اور شوہر 15 دن دوسری بیوی کے ساتھ شب باشی کرتا ہے تو کیا پہلی بیوی کے واپس آنے کے بعد ان 15 دنوں کی قضا ادا کرنی ہو گی؟ یعنی دوسری بیوی 15 دن اکیلی رہے گی۔
واضح ہو کہ شوہر کے ذمہ دونوں بیویوں کے درمیان رات گزارنے ،نان ونفقہ اور سکنیٰ میں برابر ی کا معاملہ کرنا شرعاً لازم اورضروری ہے ، البتہ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے میکے جاکر اور کچھ ایام اپنے میکے میں گزار تی ہے تو واپس آنے پر والدین کے ہاں گزارے ہو ئے ایام کے بقدر شوہر کے ساتھ شب باشی کی حقدار نہ ہو گی، بلکہ حسب معمول دوسری بیوی کے برابر شوہر کے ساتھ رات گذارنے کی حقدار ہو گی ، جبکہ میکہ جانے کے لئے کرائے اور سفری اخراجات اس کے مسافت کے مطابق شوہر اپنی رضامندی سے جتنا دینا چاہے اسے اختیار ہو گا ،اس میں دونوں بیویوں کے درمیان برابری شرعاً لازم نہیں ۔ البتہ سفری سہولت میں برابری کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔
کمافی الھندیہ: والنفقة الواجبة المأكول والملبوس والسكنى أما المأكول فالدقيق والماء والملح والحطب والدهن كذا في التتارخانية وكما يفرض لها قدر الكفاية من الطعام كذلك من الآدام كذا في فتح القدير ويجب لها ما تنظف به وتزيل الوسخ كالمشط والدهن، وما تغسل به من السدر والخطمي، وما تزيل به الدرن كالأشنان والصابون على عادة أهل البلد(ج1 ص549 الفصل الاول فی نفقۃ الزوجۃ ط:ماجدیہ)۔
وفیھا ایضاً: وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لا يخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية. والمستحب أن يسوي بينهن في جميع الاستمتاعات من الوطء والقبلة وكذا بين الجواري وأمهات الأولاد ولا يجب شيء كذا في فتح القدير.(ج1 ص341 کتاب النکاح ط:ماجدیہ)۔
وفی الخانیہ:فلو انہ سافر مع احدی امراتیہ لما قدم طلبت التی لم یسافر معھا ان یقیم عندھا مثل تلک المدۃ لم یکن ذٰلک(کتاب النکاح ج2 صــ147 ط:رشیدیہ)۔