کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں اگر خدانخواستہ کوئی مسلمان توہینِ رسالت کا ارتکاب کرتاہے ، اور کچھ دیر بعد کسی عالم کے سامنے توبہ کر کے ایمان کی تجدید کرتا ہے ،تو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں ؟ اور اس کے خلاف سزا دلانے کے لئے کاروائی ہوگی یا نہیں؟
واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا بدترین جرم ہے، اور ایسا شخص بہت سخت گناہ گار اور تائب نہ ہونے کی صورت میں واجب القتل ہے، تاہم اگر یہ شخص سچے دل سے پوری ندامت کے ساتھ توبہ کرلے تو اس کی توبہ کی قبولیت اور سزا معاف ہونے میں متقدمین احناف فقہاء کرام اور متأخرین کا اختلاف ہے، تاہم متقدمین احناف فقہاء کرام کے نزدیک اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور اس سے قتل کی سزا ساقط ہوجائیگی، بشرطیکہ یہ عادی مجرم نہ ہو اور بار بار اس فعلِ قبیح کا مرتکب نہ ہورہا ہو۔
کما فی الدرالمختار: من نقص مقام الرسالة بقوله بأن سبه - صلى الله عليه وسلم - أو بفعله بأن بغضه بقلبه قتل حدا كما مر التصريح به، لكن صرح في آخر الشفاء بأن حكمه كالمرتد،ومفاده قبول التوبة كما لا يخفى،الخ ( ج4 ص 232 باب المرتد مطلب مھم فی حکم ساب الأنبیاء ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله لكن صرح في آخر الشفاء إلخ) هذا استدراك على ما في فتاوى المصنف.(الی قولہ) فهذا كلام الشفاء صريح في أن مذهب أبي حنيفة وأصحابه القول بقبول التوبة كما هو رواية الوليد عن مالك،الخ (ج4 ص 233 باب المرتد ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: (وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر و (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا،(الی قولہ) من نقص مقام الرسالة بقوله بأن سبه - صلى الله عليه وسلم - أو بفعله بأن بغضه بقلبه قتل حدا كما مر التصريح به، لكن صرح في آخر الشفاء بأن حكمه كالمرتد،ومفاده قبول التوبة كما لا يخفى،الخ(ج4 ص 231 باب المرتد ط سعید)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0