کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مولانا مودودی کی کتاب ’’رسائل و مسائل‘‘ جلد 2 صفحہ نمبر 94 پر کسی قادیانی نے مولانا مودودی صاحب سے احتجاج کیا ہے کہ’’قادیانی‘‘ یا ’’مرزائی‘ کیوں کہا جاتا ہے؟ اگر کوئی جماعت اسلامی کو مودودی کی نسبت سے ’’مودودیے‘‘ کہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ مودودی صاحب نےجواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جماعتِ اسلامی کے افراد کو ’’مودودیے‘‘ کہنے پر ہمیں اس لیے اعتراض ہے کہ ہم اپنے مسلک اور نظام کو کسی شخص خاص کی طرف منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں ’’مودودی‘‘ تو درکنار ہم تو اس مسلک کو ’’محمدی‘‘ کہنے کے لیے بھی تیار نہیں ، یہ تو اسلام ہے جس کے موجد ہونے کا شرف کسی انسان کو حاصل نہیں ، اس لیے اسے کسی انسان کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا ، اگر آپ ہمیں ’’نومیے یا ابراہیمی‘‘ کہیں گے ، تب بھی ہمیں اعتراض ہوگا جو ’’مودودیے‘‘ کہنے پر ہے۔
سوال یہ ہے کہ ساری امت جو ’’دینِ محمدی‘‘ کا لفظ استعمال کرتی ہے وہ غلط ہے ؟ جبکہ پوری امتِ محمدی عربی صلی اللہ علیہ و سلم کا کلمہ پڑھتی ہے اور اسے باعثِ فخر سمجھتی ہے؟ اور کیا علماء و صلحاء نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بانٰئی اسلام نہیں کہا ہے ؟ ایک بزرگ کا شعر بھی ہے:
اُٹھا عالم سے کوئی بانئی اسلام کا ثانی
پھر آگے چل کر مودودی صاحب نے ’’نومیے یا ابراہیمی‘‘ کے الفاظ ادا کیے ہیں ، اسی طرح انبیاءِ کرام کے ناموں کو بگاڑنا بے ادبی اور گستاخی نہیں ہے، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں بتلائیے کہ انبیاءِ کرام کے بارے میں مذکورغیر ذمہ دارانہ رویّہ اپنانا کیسا ہے؟
مودودی صاحب کے اسی اندازِ تحریر سے جمہور علماءِ حق کو اختلاف ہے کہ وہ صحابہ و انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں جو الفاظ استعمال کرتے ہیں،ان سے گستاخی کا پہلو نکلتا ہے اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کے بارے میں یہ طرزِ عمل کسی صاحبِ ایمان کی شان کے لائق اور اس کا شیوہ نہیں۔ و اللہ أعلم بالصواب!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0