کیافرماتے ہیں مفتی صاحب اس مسئلہ میں کہ نبی سے خطائےاجتہادی ہو سکتی ہے ۔ اگر کوئی بندہ ایسا عقیدہ رکھے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کرم فرما کرتفصیل سے جواب عطا فرمائیں ۔
جی ہاں! کسی بھی نبی (علیہ السلام) سے بتقاضائے بشریت اجتہادی خطاء کا صدورممکن ہے،لیکن اس خطاء کو بر قرارنہیں رکھاجاتا، بلکہ من جانب اللہ اس خطا ءپر انہیں مطلع فرما دیا جاتا ہے۔
کما فی تفسیر البغوی: و قالوا یجوز الاجتھاد للانبیاء لیدرکوا ثواب المجتھدین (الی قولہ) و قالوا یجوز الخطاء علی الانبیاء الا انھم لا یقرون علیہ(3/254)
و فی أحكام القرآن للجصاص ط العلمية: وقد تنازع الفريقان من المختلفين في حكم المجتهد في الحادثة القائلون منهم بأن الحق واحد والقائلون بأن الحق في جميع أقاويل المختلفين، فاستدل كل منهم بالآية على قوله، وذلك لأن الذين قالوا بأن الحق في واحد زعموا أنه لما قال تعالى: {ففهمناها سليمان} فخص سليمان بالفهم دل ذلك على أنه كان المصيب للحق عند الله دون داود،; إذ لو كان الحق في قوليهما لما كان لتخصيص سليمان بالفهم دون داود معنى.الخ(3/ 293)
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0