،بخدمت جناب مفتی صاحب السلام علیکم!گزارش ہےکہ میرےماموں 24/1/14 کوانتقال کرگئے،جن کی رہائش بلدیہ ٹاؤن نمبر3،دہلی کالونی میں تھی،مرحوم کی عمر80 سے85 سال کےدرمیان تھی اورمرحوم نےشادی بھی نہیں کی تھی،مرحوم کی دوسگی بہنیں تھیں جوکہ انتقال کرچکی ہیں،لیکن مرحوم کی ایک اوربہن جوکہ دوسری والدہ سےہیں وہ حیات ہیں،اورمرحوم کاکوئی سگابھائی بھی نہیں ہے،مرحوم کےایک چچاتھےجوکہ انتقال کرگئےہیں،مرحوم کی زندگی میں ہی ایک گھر کےدوحصےہوچکےہیں،مرحوم کاایک گھراور بھی ہےجوکہ مرحوم مسجدکےنام کرنےکابولتےتھے،اب ورثاءمیں مرحوم کی دوسگی بہنوں کی اولاد،اورتیسیری سوتیلی بہن اوراسکی اولادحیات ہیں،واضح رہےکہ مرحوم کی زندگی میں انکےدکھ سکھ کےساتھی ہمیشہ ان کی بہنیں اوربھانجےہی رہے،حتی کہ انکی آخری رسومات یعنی کفن دفن بھی انکےسگےبھانجوں نےہی اداکی ہیں،مہربانی فرماکرآپ فتوی دیجئے کہ ان کی وراثت کے حقدار کون ہیں ؟مرحوم کی بہنوں کے بچے یامرحوم کے چچاکےبچے؟
نوٹ:مرحوم کےچچاکےدوبیٹےاوردوبیٹیاں موجودہیں،جبکہ مسجدکےنام کیے ہوئےگھرکامطلب یہ ہےکہ ماموں مرحوم زندگی میں یہ کہتےتھے کہ یہ گھر میں مسجدکےنام کرونگا۔
اگرسائل کےماموں مرحوم نےاپنی زندگی میں مذکورمکان باقاعدہ مسجدکیلئےوقف نہ کیاہوبلکہ فقط اپنی خواہش اورارادےکااظہار کیاہو،تواس سے مذکورمکان شرعاًمسجدکےلئےوقف نہیں ہوا،بلکہ مرحوم کی وفات تک یہ مکان بدستورمرحوم کی ملکیت میں رہاجوکہ اب دیگرترکہ کی طرح مرحوم کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا،جبکہ مرحوم کی زندگی میں اگرچہ مرحوم کی بہنوں اوربھانجوں نےان کی دیکھ بھال اورخدمت کی ہےجس پرامیدہیکہ وہ عنداللہ مأجورہونگےلیکن مرحوم کاترکہ شرعاًمرحوم کی سوتیلی(باپ شریک بہن)اورچچازادبھائیوں کےدرمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا،مرحوم کےبھانجے،بھانجیاں شرعاًمرحوم کےترکہ میں حصہ دارنہ ہونگے،البتہ اگرورثاءاپنی مرضی سے انہیں کچھ دیناچاہیں تواس کاانہیں اختیارہے۔
اس کےبعدواضح ہوکہ سائل کےماموں مرحوم کاترکہ اصولِ میراث کےمطابق ان کےمذکورزندہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،نقدرقم اورہرقسم کاچھوٹابڑا گھریلوسازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے،وہ ساراکاساراترکہ ہے،جس میں سب سےپہلےمرحوم کےکفن دفن کےمتوسط مصارف اداکریں،اس کےبعددیکھیں کہ مرحوم کےذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتووہ اداکریں،اس کے بعددیکھیں کہ مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتوبقیہ مال کی ایک تہائی (1/3)حصے کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کےبعدجوکچھ بچ جائےاس کےکل چار(4)حصےبنائےجائیں،جس میں سےمرحوم کی سوتیلی (باپ شریک) بہن کودو(2)حصے،اور چچازاد بھائیوں میں سےہرایک کوایک(1)حصہ دیدیے جائیں -
کما فی الدرالمختار: (ولایتم) اوقف (حتی یقبض) لم یقل للمتولی لان تسلیم کل شیئ بما یلیق بہ ففی المسجد بالافراز وفی غیرہ بنصب المتولی وبتسلیمہ ایاہ الخ(ج4 صـ348 کتاب الوقف ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ: ففی المسجد بالافراز) ای والصلاۃ فیہ الخ (ج4 صـ348 کتاب الوقف ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولو قال ارضی ھذہ صدقۃ موقوفۃ ان شئت او ھویت او رضیت کان الوقف باطلا کذا فی المحیط الخ(ج2 صـ355 کتاب الوقف ط: ماجدیۃ)۔
وفی السراجی فی المیراث: اما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ الی المیت انثی وھم اربعۃ اصناف جزء المیت واصلہ وجزء ابیہ وجزء جدہ الاقرب فالاقرب یرجحون بقرب الدرجۃ اعنی اولٰھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم وان سفلوا ثم اصلہ ای الاب ثم الجد ای اب الاب وان علا ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ ثم بنوھم وان سفلوا ثم جزء جدہ ای الاعمام ثم بنوھم وان سفلوا (الی قولہ) ومن لافرض لھا من الاناث واخوھا عصبۃ لاتصیر عصبۃ باخیھا کالعم والعمۃ المال کلہ للعم دون العمۃ الخ(صـ15-14 باب العصبات ط: قدیمی کتب خانہ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0