احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم=مرحوم کی ایک سوتیلی بہن اور چچا زاد بیٹے بیٹیاں

فتوی نمبر :
70700
| تاریخ :
2024-02-03
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکہ کی تقسیم=مرحوم کی ایک سوتیلی بہن اور چچا زاد بیٹے بیٹیاں

،بخدمت جناب مفتی صاحب السلام علیکم!گزارش ہےکہ میرےماموں 24/1/14 کوانتقال کرگئے،جن کی رہائش بلدیہ ٹاؤن نمبر3،دہلی کالونی میں تھی،مرحوم کی عمر80 سے85 سال کےدرمیان تھی اورمرحوم نےشادی بھی نہیں کی تھی،مرحوم کی دوسگی بہنیں تھیں جوکہ انتقال کرچکی ہیں،لیکن مرحوم کی ایک اوربہن جوکہ دوسری والدہ سےہیں وہ حیات ہیں،اورمرحوم کاکوئی سگابھائی بھی نہیں ہے،مرحوم کےایک چچاتھےجوکہ انتقال کرگئےہیں،مرحوم کی زندگی میں ہی ایک گھر کےدوحصےہوچکےہیں،مرحوم کاایک گھراور بھی ہےجوکہ مرحوم مسجدکےنام کرنےکابولتےتھے،اب ورثاءمیں مرحوم کی دوسگی بہنوں کی اولاد،اورتیسیری سوتیلی بہن اوراسکی اولادحیات ہیں،واضح رہےکہ مرحوم کی زندگی میں انکےدکھ سکھ کےساتھی ہمیشہ ان کی بہنیں اوربھانجےہی رہے،حتی کہ انکی آخری رسومات یعنی کفن دفن بھی انکےسگےبھانجوں نےہی اداکی ہیں،مہربانی فرماکرآپ فتوی دیجئے کہ ان کی وراثت کے حقدار کون ہیں ؟مرحوم کی بہنوں کے بچے یامرحوم کے چچاکےبچے؟
نوٹ:مرحوم کےچچاکےدوبیٹےاوردوبیٹیاں موجودہیں،جبکہ مسجدکےنام کیے ہوئےگھرکامطلب یہ ہےکہ ماموں مرحوم زندگی میں یہ کہتےتھے کہ یہ گھر میں مسجدکےنام کرونگا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرسائل کےماموں مرحوم نےاپنی زندگی میں مذکورمکان باقاعدہ مسجدکیلئےوقف نہ کیاہوبلکہ فقط اپنی خواہش اورارادےکااظہار کیاہو،تواس سے مذکورمکان شرعاًمسجدکےلئےوقف نہیں ہوا،بلکہ مرحوم کی وفات تک یہ مکان بدستورمرحوم کی ملکیت میں رہاجوکہ اب دیگرترکہ کی طرح مرحوم کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا،جبکہ مرحوم کی زندگی میں اگرچہ مرحوم کی بہنوں اوربھانجوں نےان کی دیکھ بھال اورخدمت کی ہےجس پرامیدہیکہ وہ عنداللہ مأجورہونگےلیکن مرحوم کاترکہ شرعاًمرحوم کی سوتیلی(باپ شریک بہن)اورچچازادبھائیوں کےدرمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا،مرحوم کےبھانجے،بھانجیاں شرعاًمرحوم کےترکہ میں حصہ دارنہ ہونگے،البتہ اگرورثاءاپنی مرضی سے انہیں کچھ دیناچاہیں تواس کاانہیں اختیارہے۔
اس کےبعدواضح ہوکہ سائل کےماموں مرحوم کاترکہ اصولِ میراث کےمطابق ان کےمذکورزندہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،نقدرقم اورہرقسم کاچھوٹابڑا گھریلوسازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے،وہ ساراکاساراترکہ ہے،جس میں سب سےپہلےمرحوم کےکفن دفن کےمتوسط مصارف اداکریں،اس کےبعددیکھیں کہ مرحوم کےذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتووہ اداکریں،اس کے بعددیکھیں کہ مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتوبقیہ مال کی ایک تہائی (1/3)حصے کی حدتک اس پرعمل کریں،اس کےبعدجوکچھ بچ جائےاس کےکل چار(4)حصےبنائےجائیں،جس میں سےمرحوم کی سوتیلی (باپ شریک) بہن کودو(2)حصے،اور چچازاد بھائیوں میں سےہرایک کوایک(1)حصہ دیدیے جائیں -

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار: (ولایتم) اوقف (حتی یقبض) لم یقل للمتولی لان تسلیم کل شیئ بما یلیق بہ ففی المسجد بالافراز وفی غیرہ بنصب المتولی وبتسلیمہ ایاہ الخ(ج4 صـ348 کتاب الوقف ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ: ففی المسجد بالافراز) ای والصلاۃ فیہ الخ (ج4 صـ348 کتاب الوقف ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولو قال ارضی ھذہ صدقۃ موقوفۃ ان شئت او ھویت او رضیت کان الوقف باطلا کذا فی المحیط الخ(ج2 صـ355 کتاب الوقف ط: ماجدیۃ)۔
وفی السراجی فی المیراث: اما العصبۃ بنفسہ فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ الی المیت انثی وھم اربعۃ اصناف جزء المیت واصلہ وجزء ابیہ وجزء جدہ الاقرب فالاقرب یرجحون بقرب الدرجۃ اعنی اولٰھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم وان سفلوا ثم اصلہ ای الاب ثم الجد ای اب الاب وان علا ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ ثم بنوھم وان سفلوا ثم جزء جدہ ای الاعمام ثم بنوھم وان سفلوا (الی قولہ) ومن لافرض لھا من الاناث واخوھا عصبۃ لاتصیر عصبۃ باخیھا کالعم والعمۃ المال کلہ للعم دون العمۃ الخ(صـ15-14 باب العصبات ط: قدیمی کتب خانہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70700کی تصدیق کریں
0     436
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات