میری بیوی نے مجھے کہا (وہ مجھے پسند نہیں کرتی ) کہ جب میں اپنے بیوی کے قریب جاتا ہوں تو وہ غصہ کرتی ہے ، وہ مجھے یہ بھی کہتی ہےکہ اسے میری فیملی اور مجھ سے کوئی مسئلہ نہیں،فیملی آئیڈیل تھی ،اور تم خیال رکھتے ہو اور معزز بندے ہو، لیکن میں تمہیں پسند نہیں کرتی تمہارے ساتھ خوش نہیں ہوتی ، اسلام کیا کہتاہے اس مسئلہ میں؟ ہمیں اپنے شادی بچانےکے لئے کیا کرناچاہیئے؟
واضح ہوکہ شادی ہوجانے کے بعد شرعی اعتبار سے میاں بیوی کے ذمہ ایک دوسرے کے بہت سے حقوق لازم ہوجاتے ہیں ، جس کی پاسداری کرنا فریقین کے ذمہ لازم اور اس میں کوتاہی کرنا باعث گناہ ہوتاہے، لہذا جب سائل اور اس کی بیوی کا نکاح باہمی رضامندی سے ہو چکا ہے ، تو اب بیوی کا اپنے شوہر (سائل) کو یہ کہہ کر" تم مجھے پسند نہیں ہو " اسے حقوق زوجیت ادا کرنے سے منع کرنا شرعاً جائز نہیں بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو رہی ہے، اور احادیث مبارکہ میں ایسی عورت کے لئے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایک روایت مبارکہ میں آتا ہے کہ جو عورت بغیر کسی عذر کے اپنے شوہر کے حق زوجیت ادا کرنے سے انکار کرے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ، لہذ سائل کو چاہیئے کہ مناسب طریقہ سے اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہا کرے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی ناپسندیدگی کی وجہ جاننے کی بھی کوشش کرے کہ اسے سائل کے کسی طرز عمل سے موافقت نہ ہو تو اسے ختم کرنے کی کوشش کرے ، اُمید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائیگا۔
کما فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح (4/116 رقم 3237 باب إذا قال أحدکم آمین والملائکۃ فی السماء )۔