آداب حرمین

غیر مسلموں کا مکہ یا مدینہ میں داخل ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
70549
| تاریخ :
2024-01-25
آداب / شعائر اسلام / آداب حرمین

غیر مسلموں کا مکہ یا مدینہ میں داخل ہونے کا حکم

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ غیرمسلم مدینہ منورہ اور مسجد نبوی میں بے تکلف گھوم پھر رہے ہیں ، اور وی لاگ بنارہے ہیں، کچھ غیرمسلم عورتیں تو غیرمناسب لباس میں بھی نظر آچکی ہیں ،جس کی وجہ سے مسلمانوں میں بے چینی رہتی ہے ، پھر ابھی ہندوستان کی غیرمسلم عورت جو مرکزی وزیر بھی ہے ،اس نے بھی اپنے سرکاری دورے کے درمیان شہر مدینہ منورہ اور مسجد نبوی کا بھی دورہ کیا ہے ، جس کی وجہ سے لوگ اچھنبے اور تشویش کا شکار ہیں،اس مسئلہ پر مکمل رہنمائی فرمائیں ،کیا سورۃ توبہ کی آیت:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا﴾ (التوبة: 28)
ترجمہ: اس سال کے حج کے بعد اب مشرکین مسجد حرام کے پاس بھی نہ آئیں (کیونکہ پہلے مشرکین مکہ بھی حج کرتے تھے)
اس آیت میں صر ف حرم مکہ داخل ہے یا مدینہ بھی ؟ نیز دونوں حرم میں کیا فرق ہے وہ بھی واضح فرمادیں۔جزاکم اللہ !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاننا چاہیئے کہ علماء اسلام نے بلاد اسلامیہ کی سرزمینوں کو کفار کے داخلے و رہائش کے اعتبار سے تین حصو ں میں تقسیم کیاہے :
1۔حرم کی زمین : حل سے لے کر مسجد حرام تک کا یہ تمام علاقہ حرم کہلاتاہے ، اور اس کی تحدید جبریل علیہ السلام کی نشان دہی پر بیت اللہ کی چاروں اطراف حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمائی تھی ، یہ حد بندی چونکہ توقیفی ہے ، اس لئے فتح مکہ کے موقع پر صحابی رسول تمیم بن اسد رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے کہنے پر حدود حرم کی علامات کی تجدید فرمائی ۔
چنانچہ جمہور علماء کی تفسیر کے مطابق مذکور بالا آیت کا محل وقوع بھی یہی پورا علاقہ ہے ،اور مسجد حرام سے روکنے سے مقصود بھی اس پورے حرم کے علاقہ سے روکنا ہے ، اسی بنا پر شوافع اور حنابلہ حضرات کے نزدیک چاہے جیسی بھی ضرورت و مصلحت ہو ، غیر مسلموں کا اس علاقہ میں داخلہ شرعاً ممنوع ہے اور سربراہ مملکت کو بھی اس کی اجازت نہیں کہ وہ کسی بھی غیرمسلم کو اس علاقہ میں داخلہ کی اجازت دے ، البتہ احناف کے ہاں کافر کے حق میں حدود حرم میں داخلہ کی بالکلیہ ممانعت نہیں ،بلکہ وہ سربراہ مملکت کی اجازت سے کسی ضرورت کی بنا پر عارضی طور پر حدود حرم میں داخل ہوسکتے ہیں، البتہ یہ اجازت و داخلہ ایسا بھی نہ ہو کہ جس سے کفار کا حدود حرم پر غلبہ و قبضہ کا اندیشہ ہونے لگے۔
2۔ جزیرۃ العرب کی سرزمین : احناف و مالکیہ کے ہاں اس کی حدودطولاً عدن سے لے کر عراق تک اور عرضاً جدہ سے لے کر شام کی سرحدات تک ہے، جبکہ حنابلہ اور شوافع کےنزدیک جزیرۃ العرب سے مراد فقط سرزمین حجاز ہے ، بہر دو صورت مدینہ منورہ جزیرۃ العرب کا حصہ ہوا ، یہ پوری کی پوری وہ سرزمین ہے جسے اسلام کی چھاؤنی کی حیثیت حاصل ہے، اسی وجہ سے حضو رﷺ نے کافر وں کی آبادی کو یہاں گوارہ نہ فرمایا اور حکم دیا کہ " اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب" ( غیر مسلموں کو جزیرۃ العرب سے نکال باہر کردو) اس حکم اور وصیت کی تعمیل کی سعادت حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی ، انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کی تکمیل فرما دی۔
فقہاء اربعہ رحمہم اللہ کے ہاں جزیرۃ العرب کی تمام سرزمین بشمول مدینہ منورہ میں اصلاً غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع نہیں ،بلکہ ان کا تجارتی ، تعمیراتی،اور حکومتی کام کاج کے لیے سربراہ مملکت کی اجازت سے عارضی طور پر یہاں قیام کر نے کی شرعاً اجازت ہے ، البتہ انھیں اس پاک سرزمین میں مستقل رہائش دینا یا یہاں اتنی طویل مدت قیام کی اجازت دینا کہ جس سے مدینہ منورہ اور یہاں کے مسلمانوں کے خلاف سازش کا موقع ملےشرعا جائز نہیں۔
3۔ بلاد اسلامیہ کی باقی سرزمین: حدود حرم اور جزیرۃ العرب کے علاوہ بلاد اسلامیہ کی باقی سرزمینوں میں سربراہان مملکت کی اجازت سے کسی بھی غیرمسلم کے لئے عارضی اور بطور ذمی مستقل رہائش اختیار کرنے کی شرعاً کوئی ممانعت نہیں ۔
اس تفصیل کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ آیت مبارکہ " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا " میں مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سے منع کرنے کا مطلب حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ آئندہ سال سے ان کو مشرکانہ طرز پر حج و عمرہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی ، اور دلیل اس کی یہ حدیث ہے کہ جس وقت موسم ِ حج میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اعلان براءت کرایا گیا ، اس میں اعلان اسی بات کا تھا کہ " لایحجن بعد العام مشرک" جس میں ظاہر کردیا گیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا،اس لیے اس آیت " فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ھذا" کے معنی بھی اس اعلان کے مطابق یہی ہے کہ ان کو حج و عمرہ کی نیت سے حرم مکہ میں داخل ہونے کی ممانعت کردی گئی ،یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ اور اس آیت کے نزول کے بعد بھی جب قبیلہ ثقیف کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا ، تو آپ ﷺنے انھیں مسجد میں ٹھہرایا حالانکہ یہ لوگ اس وقت کافر تھے ، صحابہ نے عرض بھی کیا ، یا رسول اللہ یہ نجس قوم ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسجد کی زمین پر ان لوگوں کی نجاست کا کوئی ا ثر نہ ہوگا۔
ان روایات مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اس آیت مبارکہ کا تعلق مشرکین کی ظاہری نجاست کے بیان کرنے سے نہیں ، بلکہ اس سے مرا د کفر و شرک کی باطنی نجاست ہے ،اور اس آیت مبارکہ کا تعلق اسلام کے ایک سیاسی حکم سے ہے، جس کا اعلان سورۃ براءت کے شروع میں کیا گیا ہے کہ جتنے مشرکین مکہ میں موجود تھے ، ان سب سے حرم محترم کو خالی کرانا مقصود تھاکہ یہ پورا کا پورا حرم اسلام کا ایک قلعہ ہے، اس میں کسی غیرمسلم کو رکھنا گوارا نہیں کیا جاسکتا۔
لہذاسا بقہ تفصیل کے مطابق اس آیت کی ممانعت کے ساتھ صرف حرم مکہ کو شامل ہے ،مدینہ منورہ اس حکم کے تحت داخل نہیں ، البتہ جزیرۃ العرب بالخصوص مدینہ منورہ میں عارضی طور پر کسی تجارتی یا دیگر ضروری سر گرمیوں کی وجہ سے سربراہ مملکت کی اجازت سے غیر مسلم داخل تو ہوسکتے ہیں، لیکن ان کا قیام یہاں مستقل یا اتنی طویل مدت تک نہ ہو، جس میں انھیں مدینہ منورہ کے خلاف سازش کا موقع میسر آئے، جبکہ بقیہ بلاد اسلامیہ کے تحت آنے والے علاقوں میں کفار کو بطور ِ ذمی مستقل رہائش اختیار کرنے کی بھی اجازت ہے ، تاہم جزیرۃ العرب بالخصوص مدینہ منورہ میں غیرمسلموں کا بلاضرورت ، بے محابہ آنا جانا ، اور وہاں عارضی قیام اس طور پر کرناکہ جس سے مدینہ منورہ کی تقدس کی پامالی ہو ،نیز عورتوں کا ستر ڈھانپے اور پورا با پردہ لباس زیب تن کیے بغیر کھلے عام گھومنا پھرنا،اور ایسے افعال بجا لانا جس سے معاذاللہ یہ کوئی تفریحی و سیاحی مقام لگے بالکل درست نہیں ، بلکہ یہ عالم اسلام میں بے چینی کا سبب بھی ہے،اس لئے حکومت وقت پر ایسے داخلہ پر پابندی لگانا، اور کھلے عام شرعی احکا م اور ان مقامات کے تقدس کی پامالی سے غیر مسلموں کو روکنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في احکام القرآن للجصاص الرازی الحنفی ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت:
وقوله تعالى: {فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا} قد تنازع معناه أهل العلم(الی قولہ) أن يكون المراد منعهم من دخول مكة للحج; ولذلك أمر النبي صلى الله عليه وسلم بالنداء يوم النحر في السنة التي حج فيها أبو بكر فيما روى الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أن أبا بكر بعثه فيمن يؤذن يوم النحر بمنى: أن لا يحج بعد العام مشرك، فأنزل الله تعالى في العام الذي نبذ فيه أبو بكر إلى المشركين: {يا أيها الذين آمنوا إنما المشركون نجس} الآية، وفي حديث علي حين أمره النبي صلى الله عليه وسلم بأن يبلغ عنه سورة براءة نادى: ولا يحج بعد العام مشرك (الی قولہ) وقد روى حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن عن عثمان بن أبي العاص "أن وفد ثقيف لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب لهم قبة في المسجد، فقالوا: يا رسول الله قوم أنجاس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنه ليس على الأرض من أنجاس شيء إنما أنجاس الناس على أنفسهم" (114/3) وکذا فی معارف القرآن لمفتی شفیع رحمہ اللہ ط: ادارۃ المعارف کراچی (355/3)
وفي اعلاء السنن، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ: عن یونس عن الحسن ان وفد ثقیف قدموا علی النبی ﷺ وھو فی المسجد فی قبۃ لہ فقیل لہ: یا رسول اللہ!إنھم مشرکون ، فقال: ان الارض لاینجسھا شئ اھ وقال المؤلف تحت قولہ: عن الحسن الخ دلالتھا علی جواز دخول الکفار و ادخالھم فی المسجد ظاھرۃ فلایمنعون منہ، قولہ تعالی: ((انما المشرکون نجس فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا)) فھو محمول علی منع الدخول علی وجہ الاستیلاء علیہ و نحوہ وقد قال اللہ تعالی (( اولئك ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین)) ولا دلیل علی الفرق بین مسجد و مسجد کما یشھد بہ الذوق الفقہی اھ (144/5)
وفی حاشیۃ التفسیرات الاحمدیۃ فی بیان الایات الشرعیۃ للشیخ الاحمد المدعو بملاجیون ط: مکتبۃ حقانیۃ:
فیمنعون من دخول المسجد الحرام اقول المراد منعھم عن دخول المسجد الحرام لانھم اذا دخلوا الحرم فقد قربوا من المسجد الحرام ویؤکد ھذا قولہ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام اراد بہ ﷺ من بیت ام ھانئ قال العلماء وجملۃ بلاد الاسلام فی حق الکفار ثلاثۃ اقسام احدھا الحرم فلایجوز لکافر ان یدخلہ بحال ذمیا کان او مستامنا لظاھر ھذہ الایۃ وبہ قال الشافعی و احمد و مالک فلو جاء رسول من دار الکفر و الامام فی الحرم فلایاذن لہ فی دخول الحرم بل یخرج الیہ او یبعث الیہ من یسمع رسالتہ خارج الحرم و جوز ابوحنیفۃ و اھل الکوفۃ للمعاھد دخول الحرم القسم الثانی من بلاد الاسلام الحجاز وحدہ مابین الیمامۃ و الیمن و النجد و المدینۃ الشریفۃ (الی قولہ) فیجوز للکفار دخول ارض الحجاز بالاذن ولکن لایقیمون فیما اکثر من مقام المسافر و ھو ثلاثۃ ایام عن ابن عمر انہ سمعو من رسول اللہ ﷺ لاخرجن الیہود والنصاری من جزیرۃ العرب فلا اترک فیھا الا مسلما (الی قولہ) فلم یتفرغ لذلک ابوبکر واجلاھم عمر فی خلافتہ و اجل لمن یقدم تاجرا ثلاثۃ والقسم الثالث سائر بلاد الاسلام فیجوز للکافر ان یقیم فیھا بعہد و امان و ذمۃ و لکن لایدخلون المساجد الا باذن مسلم اھ (456)
وفیھا ایضا: وقال صاحب الکشاف و عن عطاءان المراد بالمسجد الحرام الحرم کلہ و ان علی المسلمین ان لایمکنوھم من دخولہ و نھی المشرکین عن ان یقربوا راجع الی نھی المسلمین عن تمکینھم منہ اھ (456)
وفي احکام القرآن للتھانوی ط: ادارۃ اشرف التحقیق: وفھم من ھھنا ان المسجد الحرام ھو الحرم کلہ و ان قولہ تعالی ((فلایقربوا المسجد الحرام )) معناہ لاتمکنوھم من الدخول فیہ علی تاویل خطاب المسلمین کما اختاروا اھ (211/4)
وفي مرقاۃ المفاتیح: اما رعایۃ الامام ولایۃ امور الرعیۃ فالحیاطۃ من ورائھم و اقامۃ الحدود و الاحکام فیھم (264/7)
وفي فقہ الاسلامی و ادلتہ ط: دار الفکر ۔دمشق: ‌‌سادساً ـ ‌دخول ‌الكافر المساجد: أجاز أبو حنيف للكافر دخول المساجد كلها، حتى المسجد الحرام من غير إذن، ولو لغير حاجة. ومعنى آية {فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا} [التوبة:28/ 9] عنده: ألا يحجوا، ولا يعتمروا عراة بعد حج عامهم هذا، عام تسع من الهجرة، حين أمر الصديق، ونادى علي بهذه السورة، وقال: «ألا لا يحج بعد عامنا هذا مشرك، ولا يطوف عريان» وقد دخل أبو سفيان مسجد المدينة لتجديد عقد صلح الحديبية، بعدما نقضته قريش، وكذلك دخل إليه وفد ثقيف، وربط ثمامة بن اثال في المسجد النبوي حينما أسر وأجاز المالكية لغير المسلم دخول الحرم المكي، دون البيت الحرام (إلی قوله) وقال الشافعية والحنابلة: يمنع غير المسلم، ولو لمصلحة من دخول حرم مكة، لقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إنما المشركون نجس، فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا} [التوبة:28/ 9] وقد ورد في الأثر: «الحرم كله مسجد» اھ (2690/4)
وفیه ایضا: ففي رأي أبي حنيفة: يجوز للكافر دخول أي مكان في دار الإسلام، حتى الحرم المكي والمسجد الحرام، فله الدخول والإقامة في حرم مكة والمسجد مدة مقام المسافر ـ ثلاثة أيام بلياليها ـ وأجاز الحنفية لغير المسلم دخول المساجد كلها ومنها المسجد الحرام (الی قولہ) ومنع الشافعية والحنابلة غير المسلم، ولو لمصلحة من ‌دخول ‌حرم مكة، لقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إنما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا} [التوبة:28/ 9] والمراد من المسجد الحرام: الحرم المكي بإجماع المفسرين (الی قولہ) ويمنع غير المسلم أيضاً في هذين المذهبين من دخول الحجاز أو الاستيطان فيه إلا بإذن الإمام ولمصلحة المسلمين كحمل رسالةأو إدخال تجارة يحتاج إليها المسلمون وذلك لمدة ثلاثة أيام فقط، ودليلهم حديث أحمد ومسلم والترمذي عن عمر: «لئن عشت لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب، حتى لا أترك إلا مسلماً» والمراد من جزيرة العرب هو الحجاز خاصة، كما حكى ابن حجر عن الجمهور، بدليل رواية أحمد: «أخرجوا اليهود من الحجاز» (الی قولہ) وأجاز المالكية لغير المسلم دخول حرم مكة دون البيت الحرام، بأمان، لمدة ثلاثة أيام أو بحسب الحاجة في تقدير المصلحة من قبل الإمام، ولا يجوز عند المالكية لغير المسلم استيطان جزيرة العرب (الحجاز واليمن) لعموم حديث عمر السابق: «لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب، حتى لا أدع إلا مسلماً» (5871/8)
وفي الدر المختار ط: الحلبی: وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ويمنعون من استيطان مكة والمدينة لأنهما من أرض العرب قال - عليه الصلاة والسلام - «لا يجتمع في أرض العرب دينان» ولو دخل لتجارة جاز ولا يطيل اھ
وفي رد المحتار ط: الحلبی: (قوله لأنهما من أرض العرب) أفاد أن الحكم غير مقصور على مكة والمدينة، بل جزيرة العرب كلها كذلك كما عبر به في الفتح وغيره وقدمنا تحديدها، والحديث المذكور قاله - عليه الصلاة والسلام - في مرضه الذي مات فيه كما أخرجه في الموطأ وغيره وبسطه في الفتح (قوله ولا يطيل) فيمنع أن يطيل فيها المكث حتى يتخذ فيها مسكنا لأن حالهم في المقام في أرض العرب مع التزام الجزية كحالهم في غيرها بلا جزية وهناك لا يمنعون من التجارة، بل من إطالة المقام فكذلك في أرض العرب شرح السير وظاهره أن حد الطول سنة تأمل اھ (208/4)
وفي فقه البیوع ط: مکتبۃ معارف القرآن: اما منع البیع من غیر المسلمین لمعارضۃ المصالح السیاسیۃ للاسلام و المسلمین فیدخل فیہ بیع عقارات دار الاسلام الی الکفار و یفترق فیہ حکم جزیرۃ العرب من غیرھا۔
اما جزیرۃ العرب فلایجوز العرب فلایجوز شرعاً ان یمکن الکفار من استیطانھم ایاھا او من اقامتھم الطویلۃ فیھا (الی قولہ) وبناء علی ھذہ الاحادیث اتفق الفقہاء علی انہ لایجوز للمسلمین ان یمکنوا غیر المسلمین من استیطان جزیرۃ العرب فقال الحنفیۃ و المالکیۃ انھا تشتمل الجزیرۃ کلھا طولا و عرضا من اقصی عدن ابین الی ریف العراق فی الطول و من جدۃ و ما والاھا من ساحل البحر الی اطراف الشام فیدخل فیھا الیمن و البحرین و مایتصل بھما فی شرق الجزیرۃ و کذالک ما وراء خیبر الی حدود الشام۔
و قال الشافعیۃ و الحنابلۃ: ان المراد من الجزیرۃ الحجاز خاصۃ (الی قولہ) ثم یجوز لغیر المسلمین دخول مالا یجوز لھم استیطانہ من جزیرۃ العرب علی اختلاف الاقوال لتجارۃ و نحوھا باذن من الامام و لکن قال الشافعیۃ و الحنابلۃ و المالکیۃ انھم لایمکنون من الاقامۃ فیھا اکثر من ثلاثۃ ایام او اربعۃ ایام فی موضع واحد الا ان یمرض احدھم فیمھل الی برئہ من مرضہ او اذا دخل مع عروض التجارۃ ان یبیعھا فی قول بعضھم (الی قولہ) اما الحنفیۃ فلم یقصروا جواز اقامۃ بثلاثۃ ایام و انما منعوا لمدۃ طویلۃ و حددھا بعضھم بسنۃ (الی قولہ) والظاھر انہ لیس ھناک نص من القرآن و السنۃ یحدد اکثر مدۃ لاقامۃ المستامنین فی دارالاسلام و ان مثل ھذہ الامور مبنیۃ علی اوضاع و ظروف یمکن ان تختلف حسب اختلاف الزمان و المکان و الامر فی ذالک موکول الی سیاسۃ عامۃ تقتضیھا تلک الاوضاع و الظروف اھ (172/1)
وفي موسوفۃ فقہیۃ الکویتیۃ: حد الحرم من جهة المدينة المنورة عند التنعيم وهو على ثلاثة أميال. وفي كتب المالكية أنه أربعة أو خمسة أميال. ومبدأ التنعيم من جهة مكة عند بيوت السقيا، ويقال لها بيوت نفار، ويعرف الآن بمسجد عائشة، فما بين الكعبة المشرفة والتنعيم حرم. والتنعيم من الحل.ومن جهة اليمن سبعة أميال عند أضاة لبن (بكسر فسكون كما في القاموس وشفاء الغرام) ومن جهة جدة عشرة أميال عند منقطع الأعشاش لآخر الحديبية، فهي من الحرم.ومن جهة الجعرانة تسعة أميال في شعب عبد الله بن خالد ومن جهة العراق سبعة أميال على ثنية بطرف جبل المقطع، وذكر في كتب المالكية أنه ثمانية أميال.ومن جهة الطائف على عرفات من بطن نمرة سبعة أميال عند طرف عرنة اھ (186/17)واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70549کی تصدیق کریں
2     3439
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ا روضہ مبارک کا بیت اللہ سے اور مکہ کا مدینہ سے افضل ہونا

    یونیکوڈ   اسکین   آداب حرمین 0
  • مسجد حرام میں لوگوں کے چھوڑے ہوئے جوتوں کو پہننا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آداب حرمین 0
  • جس دکان میں گانے، فلمیں وغیرہ ڈاؤن ہوتی ہوں اس کا نام ’’مدینہ موبائل کمیونکیشن‘‘ رکھنا

    یونیکوڈ   آداب حرمین 0
  • غیر مسلموں کا مکہ یا مدینہ میں داخل ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   آداب حرمین 2
  • مشرق کی رخ بنے ہوئے باتھ رومز کا حکم

    یونیکوڈ   آداب حرمین 0
  • کیا زم زم کے پانی میں عام پانی ملانے سے وہ پانی زم زم بن جاتا ہے؟

    یونیکوڈ   آداب حرمین 0
  • دوران حج کہنا" مجھے نماز پڑھنے کا دل نہیں چاہتا، مجھے گھر جانا ہے"

    یونیکوڈ   آداب حرمین 0
  • علاقہ کی مسجد کا نام مسجدنبوی رکھنا

    یونیکوڈ   آداب حرمین 0
  • خانہ کعبہ کی تصویر والا کپڑا گھر میں استعمال کرنا

    یونیکوڈ   آداب حرمین 0
  • مسجد نبوی میں بچہ کے پیشاب کرنے پر کفارہ کا حکم

    یونیکوڈ   آداب حرمین 0
Related Topics متعلقه موضوعات