کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ دکان کا نام ’’مدینہ کمیونکیشن‘‘ رکھنا جائز ہے؟ اس طور پر کہ دکان میں گانے، فلمیں، اور غلط ویڈیوز غرض ہر قسم کے ناجائز مواد ملتے ہیں، تو کیا ’’مدینہ‘‘ نام کی حرمت اور عظمت کے باوجود دکان کا ایسا نام رکھنا جائز ہے؟
نوٹ: مذکور دکان میں ایزی لوڈ اور موبائل کی خرید وفروخت بھی ہوتی ہے، لیکن وہ برائے نام ہے، اکثر یہ چیزیں ہوتی ہیں، برائے مہربانی اس کے متعلق حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں، نیز ایسے کاموں کے لۓ دکان کرایہ پر دینا اور اس کا کرایہ اپنے استعمال میں لانا جائز ہے کہ نہیں؟
کسی دکان کا نام ’’مدینہ موبائل کمیونکیشن‘‘ رکھنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں، اسی طرح دکان موبائل کی خرید وفروخت کے لۓ کرایہ پر دینا بھی جائز ہے، البتہ کسی بھی دکاندار کے لۓ اپنی دکان میں گانے، فلمیں، غلط وڈیوز چلانا یا ان چیزوں کی ڈاؤن لوڈنگ کرنا جائز نہیں، جبکہ ایسی عظمت والی جگہ کی طرف منسوب نام پر مبنی دکان میں اس طرح کے امور سر انجام دینا عرفاً اور بھی معیوب سمجھا جاتا ہے، اس لۓ اس سے اجتناب لازم ہے، اور پہلے سے ان باتوں کا علم ہو تو ایسے شخص کو دکان کرایہ پر دینے سے احتراز کرنا چاہیۓ۔
فی الدر المختار: وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية اھ (6/ 417)۔
وفی فقه البیوع: ولکن جواز البیع فی هذہ الأشیاء بمعنیٰ صحة العقد أما الإثم فیتأتی فیه ما ذکرناه فی شروط العاقد من أنه إذا کان یقصد به معصیة بائعا أو مشتریا فالبیع یکره تحریمیا (إلی قوله) وإن علم البائع أنه یستعمله فی محظور وکان سببا قریبا داعیا إلی معصیة فیکره له البیع تحریمیا وإن کان سببا بعیدا لا یکره اھ (۱/ ۳۲۴)۔
جس دکان میں گانے، فلمیں وغیرہ ڈاؤن ہوتی ہوں اس کا نام ’’مدینہ موبائل کمیونکیشن‘‘ رکھنا
یونیکوڈ آداب حرمین 0