السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دوست کی دوسری بیوی ہمیشہ لڑائی کرتی اور اصرا کرتی ہے کہ پہلی بیوی اور ان کے بچوں کو چھوڑ دے ، ان کی ماں ان کے بھائیوں اور بہنوں سے ملاقات نہ کرے اور ان کی مالی تعاون نہ کرے ، براۂ کرم رہنمائی فرمائے۔
واضح ہو کہ دو بیویوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لینا ، بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنا ، ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسنِ سلوک سے پیش آنا ہر شخص کی شرعی ذمہ داری ہے ، لہذا سائل کے دوست کی دوسری بیوی کا بلا کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر کو پہلی بیوی اور ان کے بچوں کو چھوڑنے، والدہ اور بہن بھائیوں سے قطع تعلق اور ان کی مالی مدد و تعاون نہ کرنے پر اکسانا قطعاً جائز نہیں ، لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز آکر آخرت کی پکڑ اور جواب دہی سے بچنے کی فکر کرے ۔
قال اللہ تعالی: وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ الآیۃ (آیتـ 21 سورۃ الرعد)
و فی جامع الترمذی: عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: رضا الرب فی رضا الوالد، و سخط الرب فی سخط الوالد اھ
و فیہ ایضاً: عن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ : سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: " قال اللہ تعالی و أنا الرحمٰن، خلقت الرحم و شققت لھا من اسمی، فمن وصلھا وصلتہ ومن قطعھا بتتہ اھ (کتاب البر و الصلۃ عن رسول اللہ ﷺ ج 2صـ 834-832 ط:بشری)
و فی الدر المختار: (یجب) و ظاھر الآیۃ أنہ فرض نھر (أن یعدل) أی أن لا یجور (فیہ) أی فی القسم بالتسویۃ فی البیتوتۃ (وفی الملبوس والمأکول) والصحبۃ (لا فی المجامعۃ) کالمحبۃ بل یستحب الخ (کتاب النکاح باب القسم ج 3 صـ 202 ط: سعید)