آج کل جو آنلائن کاروبار فاریکس ٹریڈنگ ہو رہی ہے ، کیا اس پر کاروبار کرنا جائز ہے ؟
فاریکس ٹریڈنگ سود اور قمار کی ایک قسم ہے، جس میں عام طور پر خرید وفروخت مقصود نہیں ہوتی بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اسی وجہ سے اس کا روبار میں قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے،جوکہ شرعاً جائز نہیں ، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروباردرست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، تا ہم اگر کوئی شخص اپنے کسی وکیل کے ذریعے حلال اشیاء خریدنے کے بعد ان پر قبضہ کر کے پھرآگے بیچے تو بلا شبہ اس کا نفع بھی حلال ہوگا ، مگر چونکہ اس کاروبارمیں عموماً ایسا نہیں ہوتا ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔ ( مأخوذ از تبویب )
کما فی سنن ابن ماجہ: عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ قال، قال رسول اللہ ﷺ من ابتاع طعاماً فلا یبعہ حتی یستوفیہ قال أبو عوانۃ فی حدیثہ ، قال ابن عباس واحسب کل شئ مثل الطعام اھ( ج3 ص 749 ط العالمیہ) ۔
وفی الجوھرۃ النیرۃ : قولہ (ومن اشتری شیئاً ممن ینقل و یحول لم یجزلہ بیعہ حتی یقبضہ ) مناسبۃ ھذہ المسئلۃ بالمرابحہ والتولیۃ ، ان المرابحہ انما تصح بعد القبض ولا تصح قبلھا اھ( ج 2 ص 210 ) ۔
وفی الھندیۃ : ومنھا القبض فی بیع المشتری المنقول الخ ( ج 3 ص 3 کتاب البیوع الباب الاول فی تعریف البیع ورکنہ وشرطہ وحکمہ وانواعہ ط ماجدیہ ) ۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0