السلام علیکم و رحمۃ اللہ مفتی صاحب ! ایک آدمی فوت ہو گیا ، اس کے ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی باپ کے فوت ہونے کے بعد فوت ہوئے ہیں ، اب میت کے ورثاء میں ایک بیوہ ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ، اور باپ کے فوت ہونے کے بعد جو بیٹی فوت ہوئی ہے، اس کے ورثاء میں سے ایک بیٹا ، ایک بیٹی اور شوہر حیات ہے اور والد کے فوت ہونے کے بعد جس بیٹے کا انتقال ہوا اس کی شادی نہیں ہوئی تھی ، اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ کس کو کتنا حصہ ملے گا ؟
نوٹ : فوت شدہ بیٹے کا انتقال فوت شدہ بیٹی سے پہلے ہوا تھا ۔
واضح ہو کہ مرحوم والد کی میراث اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگی کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہو ، تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل اکتا لیس ہزار چار سو بہتر (41472) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو سات ہزار چھ سو باسٹھ (7662) حصے ، بیٹے کو گیارہ ہزار پانچ سو بیانوے (11592) حصے ، ہر بیٹی کوپانچ ہزار سات سو چھیانوے (5796) حصے ، اورمرحومہ بیٹی کے شوہر (داماد ) کو ایک ہزار چار سو انچاس (1449) حصے ، نواسے کو دو ہزار دو سو چون (2254) حصے ، جبکہ نواسی کو ایک ہزار ایک سو ستائیس (1127) حصے دیے جائیں -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0