عرض گزارش ہیکہ میں نے نانا مرحوم کے ترکے کی تقسیم کے متعلق ادارہ ھٰذا سے ایک فتویٰ ”سیریل نمبر62676 “وصول کرلیا ہے(جو کہ درخواست کیساتھ منسلک ہے) لیکن اسمیں میں نے غلطی سے نانا مرحوم کے ورثاء کی تعداد دو بیٹے اور دو بیٹیاں لکھوائی تھی ، جبکہ درحقیقت انکے ورثاء میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، جس میں سے پھر نانا،نانی کی وفات کے بعد ایک بیٹی کا انتقال ہوا، (باقی تفصیل سابقہ فتویٰ کے سوال میں موجود ہے)لہٰذا آپ سے التماس کی جاتی ہیکہ حقیقی صورتحال کے مطابق نانا مرحوم کے ترکے کی تقسیم سے آگاہ کیا جائے۔
سائل کے نانا،نانی مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ اپنے ترکے میں چھوڑا تھا، اس میں سابقہ فتویٰ میں درج تفصیل کے مطابق”حقوقِ متقدمہ علی المیراث“ کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل سات(7) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحومین کے ہر ایک بیٹے کو دو(2)حصے،ہر ایک بیٹی اور نواسے(سائل)کو ایک ایک(1)حصہ دیا جائے -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2