کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدکاانتقال ہوا , اسکے بعد ہماری والدہ کاانتقال ہوا ، ورثاء میں چار بیٹے ،ایک بیٹی ہے ، اس کے بعد ہمارے بھائی” علیم احمد“ کاانتقال ہوا ورثاء میں بیوہ” طاہرہ“ بیگم ،اورایک بیٹا”احمدعادل“ ہے اب ہمارے والد کا ترکہ مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
سائل کےوالدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے، سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں, اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھتیس(36)حصے بنائے جائیں جن میں سے ہربیٹے کو آٹھ (8) حصے ، بیٹی کو چار(4) حصے،بہو کو ایک(1)حصہ،اورپوتے کوسات(7)حصے دیے جائیں -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0