السلام علیکم!
مفتی صاحب ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ میرے والد صاحب بینک میں سیکیورٹی کی نوکری کرتے تھے، اور حکومت کا ایک” EOBI“ کا ادارہ ہے وہ چھوٹے پرائیویٹ ملازمین کو رجسٹر کرتےہیں، اور جب سروس ختم ہوتی ہے تو وہ پینشن دیتے ہیں،اور اگر سروس کے دوران فوت ہو جائے تو ڈیتھ گرانٹ بھی دیتے ہیں، میرےوالد صاحب کی وفات ہو گئی ہے، اب ڈیتھ گرانٹ ملی ہے، کیا یا رقم حلال ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ ای او بی آئی (EOBI) ایک سرکاری ادارہ ہے جو پرائیویٹ کمپنیوں اور اداروں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں میں سے کچھ رقم کاٹ کر EOBI میں جمع کروایں، تاکہ ملازم کے ریٹائر ہونے کی صورت میں ا س کو اور وفات کی صورت میں اس کے لواحقین کو اصل جمع کردہ رقم سمیت کچھ زائد رقم ادا کرے، چونکہ اس میں ملازم کو اپنی تنخواہ میں سے کٹوتی نہ کروانے کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ جبراً یہ کٹوتی کی جاتی ہے، لہذا ملازم یا لواحقین کیلئے مذکور رقم اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔
کما فی الدر المختار: (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قالﷺ «تهادوا تحابوا»۔اھ (5/ 687)-
وفی فقه البیوع: اما اذا کانت الوظیفة لیس لھا علاقة مباشرة بالعملیات الربویة مثل وظیفة الحارس او سائق السیارة، او العامل علی الھاتف، او المؤظف المسؤل عن صیانة البناء (الیٰ قوله) فلا یحرم قبولھا ان لم یکن بنیة الاعانة علی العملیات المحرم، و ان کان الاجتناب عنھا اولیٰ، و لایحکم فی راتبه بالحرمة، لما ذکرنا من التفصیل فی الاعانة و التسبب و فی کون مال البنک مختلطاً بالحلال والحرام و یجوز التعامل مع مثل ھؤلاء المؤظفین ھبة او بیعاً او شراءً۔اھ (1/ 1065)-