السلام علیکم !جناب مفتی صاحب میں ،۔۔۔مراد زوجہ ۔۔۔۔(مرحوم)کی بیوہ ہوں،میرے شوہر ایک سرکاری ملازم تھے جو دورانِ ملازمت انتقال کرگئے،مجھے ان کے ادارے کی طرف سے میرے نام پر 1,047,688(دس لاکھ سنتالیس ہزار چھ سو اٹھاسی) روپے جو کہ جی پی فنڈ اور مراعات کی صورت میں مجھ بیوہ کوملے،
24,130 روپے پینشن ہر ماہ ملتی ہے میرے شوہر کی والدہ حیات ہے اور ان کے والد یعنی میرے سسر کا انتقال ہوچکا ہے،
میرا سوال ہے کہ جو رقم میرے نام پر میرے شوہر کے ادارے کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں اس پر میری ساس کا حق ہے کہ نہیں اگر ہے تو کتنے پرسینٹ ہوگا اور میں بےاولاد ہوں اسلامی شریعت اور حکومتِ پاکستان کے قانون کے مطابق میری رہنمائی کی جائے۔
سائلہ کو شوہر مرحوم کی وفات کے بعد ادارے کی طرف سے” جی پی فنڈ“کے نام سے جو رقم ملی ہے وہ تو مرحوم کاترکہ شمار ہوگا جو کہ سائلہ اورمرحوم کی والدہ سمیت اسکے تمام ورثاء کے درمیاں حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا ،تقسیم کاطریقہ کار اور حصوں کاتناسب ورثاء کی تفصیل ذکرکرکے معلوم کی جاسکتی ہے۔
جبکہ” پنشن “کے نام سے جورقم ملی ہے وہ مرحوم کاترکہ نہیں بلکہ یہ ادارہ کی طرف سے مرحوم کے پسماندگان کیساتھ تبرع و احسان ہے، اور ادارہ اپنے ضابطہ کے مطابق اس کیلئے جس فرد کونامزد کرے وہی اس رقم کاحقدار ہوگا ،دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا ،چنانچہ اگر ادارہ نے سائلہ ہی کو پنشن کی رقم کیلئے نامزد کیاہو تو سائلہ ہی اس رقم کی مالک اور حقدار ہوگی ، اس میں مرحوم کی والدہ یادیگر ورثاء کا کوئی حق نہ ہوگا، البتہ اگر سائلہ اپنی مرضی اور خوشی سے کسی اور شخص کوبھی اس رقم میں سے کچھ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے لیکن ایسا کرنا اس پرلازم اورضروری نہیں ۔
کما فی بدائع الصنائع : لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله - سبحانه وتعالى - أعلم.(7/57)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2