السلام علیکم !جیسا کہ میں موبائل فون بیٹری وغیرہ قسطوں پر دیتا ہوں اور کوئی ایڈوانس نہیں لیتا جو کہ 8 مہینے پر مشتمل ہیں تو یہ کاروبار صحیح ہے یا نہیں؟ جو نفع مقرر کیا گیا وہ ہی لیتا ہوں کیا یہ جائز ہو گا یانہیں ؟جزاکم اللہ خیرا!
سائل اگر موبائل فون بیٹری وغیرہ کی قیمت حتمی طورپر متعین کرکے قسطوں پر فروخت کرے اور قیمت کی ادائیگی کیلئے وقت بھی مقرر ہو توایسی صورت میں سائل کیلئے مذکور طریقہ کار کے مطابق کاروبارکرنا جائز اور درست ہے ،شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ۔
کمافی فقہ البیوع:کما یجوز ضرب الاجل لاداء الثمن دفعہ واحدہ ،کذلک یجوز ان یکون اداء الثمن باقساط ،بشرط ان یکون آجال الاقساط ومبالغھا معیّنہ عند العقد .وقد یسمی "البیع بالتقسیط "،وھو نوع من البیع المؤجل ، والاقساط قد تسمی "نجماً".(1/ 539)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0