کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری والدہ مسماۃ فرزانہ کا انتقال ہو گیا، انکے ورثاء میں شوہر مسمیٰ سکندر ، ایک بیٹا سہیل ،اور دو بیٹیاں(بینش،اقراء)موجود تھیں ، نانا ، نانی کا پہلے انتقال ہو گیا تھا ، اسکے بعد ہمارے والد نے دوسری شادی کی ، اس شادی سے ایک بیٹا اور دوبیٹیاں تھیں ، اسکے بعد پھر ہمارے والد کا انتقال ہوا ، بوقتِ انتقال ورثاء میں ایک بیوہ مسماۃ وحیدہ بانو ، دو بیٹے (سہیل،سمیر)اور چار بیٹیاں (بینش ،اقراء ،نزہت،انیسہ)موجود تھیں ، اس کے بعد پھر بیوہ وحیدہ بانو کا انتقال ہوا ، ورثاء میں ایک بیٹا مسمیٰ سمیر اور دو بیٹیاں (نزہت ،انیسہ)موجود تھیں -
اب معلوم یہ کرنا ہیکہ ہماری والدہ مرحومہ (مسماۃ فرزانہ)کا ترکہ مذکور ورثاء میں کسطرح تقسیم کیا جائیگا ، یاد رہے کہ فرزانہ مرحومہ کی ذاتی ملکیتی مکان تھا۔
نوٹ: سائل کے دادا ، دادی کا انتقال مرحوم(سائل کے والد)سےقبل ہو چکا تھا ، جبکہ مرحومہ وحیدہ بانو کے والدین کا انتقال بھی مرحومہ سے پہلے ہو گیا تھا۔
سائل کی والدہ مرحومہ مسماۃ فرزانہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا،چاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف شوہر پر لازم تھے ، چنانچہ اگر یہ اخراجات شوہر نے یا کسی اور نے بطورِ احسان ادا کرلیے تھے تو اب ترکہ سے منہا نہ ہوں گے ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اُس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/ 1) حصے کی حد تک اُس پر عمل کریں، اُس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل دوسو چھپن(256 ) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحومہ کے بیٹے(سہیل) کو ایک سو دس(110)حصے،ہر ایک بیٹی(بینش،اقراء) کو پچپن(55)حصے،مرحومہ وحیدہ بانو کے بیٹے(سمیر)کو اٹھارہ(18)حصے، اور ہر ایک بیٹی(مرحومہ وحیدہ بانو کی بیٹیوں)کونو(9) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2