اگر کرپٹو کرنسی خود شرعی اصول کے مطابق ہو ، تو اس میں اسٹیکنگ ( اکاونٹ لاک کرکے منافع کمانا) کرنا حلال ہے؟
واضح ہو کہ کسی کاروبار اور لین دین کے نام کے ساتھ اسلامک کا نام لگانے اور اس عنوان کے ساتھ اس کی تشہیر کرنے سے وہ کاروبار اور معاملات Shariah Compliant نہیں بنتے جب تک کہ اس کاروبار اور لین دین کا پورا طریقہ کار عملاً بھی شرعی اصولوں کے مطابق نہ ہو ، جبکہ اب تک کی معلومات کے مطابق کرپٹو کرنسی کا کوئی حسی وجود نہیں ہے ، بلکہ محض ڈیوائس میں موجودگی اور ضمان کی حدتک اس کو کرنسی خیال کیا جاتا ہے ، جبکہ ملکی قانون میں اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ، نیز بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے نام سے دھوکہ دہی بھی عام ہے ، لہذا مذکور کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0