ڈالر کی آنلائن خرید و فروخت اس طرح کرنا کہ اسے خرید کر بعد ازاں مہنگا ہونے کےفروخت کیا جائے کیا یہ کاروبار جائز ہے ؟
اگر ڈالر کی آن لائن اس طرح خریداری کی جائے کہ وہ ڈالر حقیقتاً یا حکماً خریدار کے قبضہ یعنی ( اس کے بینک اکاؤنٹ ) میں منتقل ہو جائیں اور جس وقت چاہے اسے کیش کرنے یا فروخت کرنے پر قادر ہو ، تو ایسی صورت میں ریٹ بڑھ جانے پر اسے فروخت کرکے نفع کمانا شرعاً جائز اور درست ہوگا بشرطیکہ خرید و فروخت کرتے وقت عوضین میں سے کسی ایک عوض پر اسی وقت قبضہ کرلیا جائے ، تاہم عام طور پر کرنسی کےآن لائن خرید و فروخت میں عوضین پر قبضہ متحقق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی خرید و فروخت مقصود ہوتی ہے، بلکہ محض فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اس لئے کرنسی کی آن لائن مروجہ فائنانس ٹریڈنگ شرعاً جائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الدر المحتار : ( ھو ) لغۃ الزیادۃ، و شرعاً ( بیع الثمن بالثمن ) ای ما خلق للثمنیۃ و منہ المصوغ ( جنسا بجنس او بغیر جنس ) کذھب بفضۃ (الی قولہ ) ( فلو ) النقدین ( احدھما بالآخر جزافا او بفضل و تقابضا فیہ ) ای المجلس ( صح الخ) ( باب الصرف ، ج گ5 ، ص 257 ، 259 ، ط : سعید ) ۔
و فی الھندیۃ : و یجوز بیع الذھب بالفضۃ مجازفۃ و مفاضلۃ کذا فی المحیط اھ ( باب فی احکام العقد بالنظر الی المعقود علیہ ، ج 3، ص219 ، ط : ماجدیہ ).
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0