ترجمہ : السلام علیکم ! میرا یہ مسئلہ ہے کہ ہمارے دادا کا ایک ”فلیٹ“ ہے ، جس کی مالیت 2575000 روپے ہے ، اسکے علاوہ اسکے کاغذات اور بِلز وغیرہ کا خرچہ 330000 روپے ہے ، ہمارے دادا کی وراثت میں پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ، ہم اس رقم کو کس طرح تقسیم کریں ، رہنمائی فرما دیں۔شکریہ
نوٹ:سائل کی دادی کا انتقال دادا سے قبل ہو چکا تھا ، اور دادا کا انتقال 2013ء میں ہوا تھا ، جبکہ دادا مرحوم کے پانچ بیٹوں میں سے ایک بیٹے مسمیٰ مقصود مرحوم کا 2019 ء میں انتقال ہوا ، انکے ورثاء میں بیوہ(مسماۃ ہما)تین بیٹے (اسد ، مبشر ، جواد)اور دو بیٹیاں(بینش اور انوشہ) حیات ہیں ۔
مذکور فلیٹ پر بل وغیرہ کی مد میں جو رقم واجب الادا ہے ، یہ اگر سائل کے دادا مرحوم کی زندگی میں لازم ہوئی تھی تو ایسی صورت میں یہ مرحوم کے ترکے سے منہا ہو گی ،لیکن اگر مرحوم کی وفات کے بعد یہ رقم واجب الادا ہوچکی ہو تو پھر اسکی ادائیگی مذکور مکان میں رہائش پذیر افراد کے ذمہ ہوگی ۔
اسکے بعد واضح ہو کہ سائل کے دادا مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اسکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اُس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/ 1) حصے کی حد تک اُس پر عمل کریں ، اُس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل چارسو سولہ(416) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کوچونسٹھ(64)حصے ، ہر ایک بیٹی کو بتیس(32) حصے ، بہو(مقصود مرحوم کی بیوہ)کو آٹھ(8)حصے ، ہر ایک پوتے(مرحوم مقصود کے بیٹوں) کوچودہ(14) حصے اور ہر ایک پوتی(مرحوم مقصود کی بیٹیوں) کوسات(7) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2