ہم کل چھ (۶)بہن بھائی تھے (عبدالحفیظ ، احسان ، عطیہ ناہید ، عبدالوحید مرحوم، عبدالحق مرحوم ، وسیم مرحوم ) جن میں سےمسمیٰ عبدالوحید مرحوم ، اور عبدالحق مرحوم کا بہت پہلے انتقال ہو گیا تھا ، جبکہ ہمارے بھائی وسیم کا ابھی انتقال ہوا ہے جس کے تر کہ کے متعلق حکمِ شرعی مطلوب ہے ،مسمیٰ وسیم مرحوم کے ورثاء میں بیوہ ، دو بھائی (عبدالحفیظ ، احسان) اور ایک بہن ہے ،مرحوم کی اولاد نہیں ہے ، اور مرحوم کے جن بھائیوں کا انتقال مرحوم سے قبل ہو چکا ہے ان کی اولاد کا مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟
اسی طرح وسیم مرحوم کی بیوہ کے بھائیوں کامرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟ نیز اگروسیم بھائی کی بیوہ کے بھائی مرحوم کے کاروبار پر قابض ہو جائیں تو کیا ان کیلئےایسا کرنادرست ہے ؟
سائل کے جن بھائیوں ( مسمیٰ عبدالوحید مرحوم ، اور عبدالحق مرحوم ) کا انتقال مرحوم بھائی مسمیٰ وسیم کی زندگی میں ہو چکاہے , ان کی اولاد کا مرحوم وسیم کےترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں ، البتہ اگرورثاء اپنی مرضی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ،اسی طرح وسیم مرحوم کی بیوہ کے بھائیوں کا بھی مرحوم کے ترکہ میں شرعاً کوئی حق نہیں ، لہذا سائل کی بیوہ بھابھی کے بھائیوں کا مرحوم وسیم کے متروکہ کل کاروبار پر قابض ہوجانا اور شرعی ورثاء کو ان کا حصہ نہ دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہے ہیں ، لہذا ان پر لازم ہے کہ دیگر ورثاء کو ان کاحق دیکر اخروی پکڑ سے سبکدوشی کی فکر کریں ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم بھائی مسمیٰ وسیم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے , جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل بیس (20) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو پانچ (5) حصے ، ہر بھائی کو چھ (6) حصے ،اور بہن کو تین (3) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2