کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہو گیا ، گھر اُن کے نام پر تھا ، پھر ایک سال بعد بھائی کا انتقال ہو گیا ، والدہ اس وقت موجود تھی ، وہ بھی کچھ سال بعد انتقال کر گئی ، اب مکان فروخت ہو رہا ہے ، ہم دو بھائی ، مر حوم بھائی کی اہلیہ ، تین بچے(دو بیٹیاں اور ایک بیٹا )اور ایک بہن ہیں ، مکان کی قیمت کیسے تقسیم ہو گی؟ اور ٹیکس اور ڈیلر کا کمیشن کیسے نکلے گا اور کس اعتبار سے تقسیم ہوگا ؟ کل قیمت تین کروڑ پچیس لاکھ ہے۔
واضح ہو کہ مذکور مکان فروخت کرکے حاصل شدہ رقم سے مذکور اخراجات منہا کرنے کے بعد باقی ماندہ رقم اُصولِ میراث کے مطابق تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی (جس کا طریقۂ کار ذیل میں ہے)۔
کما فی الهداية : و أجرة القسمة على عدد الرؤوس۔اھ (4/412)۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدِمرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اُنکے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اُسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اُسکے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ، اُسکے بعد جو کچھ بچ جائے اُسکے کل اُنیس سو بیس (1920) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو چھ سو آٹھ (608) حصے ، بیٹی کو تین سو چار (304) حصے ، بہو کو ساٹھ (60)حصے ، پوتے کو ایک سو ستر (170)حصے ، جبکہ ہر ایک پوتی کو پچاسی (85) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2