کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے والدِ مرحوم محمد حسین کا انتقال ہوگیا ہے ،بوقتِ انتقال ان کے ورثاء میں ایک بیوہ ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں موجود تھیں ، اس کے بعد بیوہ کا انتقال ہوگیا ، بیوہ کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھااور ورثاء میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں موجود تھیں ، پھر ایک بیٹی کا انتقال ہوا، ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے ، ان کے شوہر کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا، اب معلو م یہ کرنا ہے کہ مرحوم محمد حسین کا ترکہ مذکور ورثاء میں کس طرح تقسیم کیا جایئگا؟ محمد حسین کے والدین کا بھی پہلے انتقال ہوگیا تھا۔
سائل کے والدین مرحومین کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو و ہ اداکریں، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اسکے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل(28) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومین کے بیٹے کو(14) حصےمرحومین کی بیٹی کو(7) حصے،ہر نواسے کو (2) حصے اورنواسی کو (1) حصہ دیا جائے -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2