السلام علیکم : میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے والدین کے گھر چار سال سے بیٹھی ہوئی ہوں ، اپنے شوہر سے ناراض ہو کر ، انہوں نے مجھے گھر سے نکا ل دیا تھا ،خود وہ سعودیہ میں رہتے ہیں ،گھر میں چھوٹی موٹی باتیں ہو جاتی ہیں ،اس بناء پر انہوں نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا تھا ،میں نے اپنے شوہر سے عدالت کے ذریعے خلع لے لی ہے ،میرا رابطہ چار سال میں وقفے وقفے سے ہوتا رہا ہے فون پر ، ملاقات نہیں ہوئی چار سال سے ،اب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا میری طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟
نوٹ : شوہر یا اس کا وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہواہے ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نے شوہرکی اجازت و رضامندی کے بغیر کورٹ سےیک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو ،تو اس کی وجہ سے شرعاً سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بد ستور برقرار ہے ، تاہم سائلہ کے شوہر کے لئے معمولی جھگڑوں کی بناء پر سائلہ کو گھر سے نکال دینا ،اور اپنی بیوی کے حقوق ادا نہ کرنا شرعاً درست نہیں ،سائلہ کا شوہر حقوق کی عدمِ ادائیگی کی وجہ سے سخت گناہ گار ہو رہا ہے ،بلکہ اس پر لازم ہے کہ بیوی کے حقوق کی ادائیگی کرکے گھر بسانے کی کوشش کرئے ،یا بیوی کو طلاق دے کراپنے نکاح کے بندھن سےآزاد کرے ،تاکہ وہ عدت گزار کر اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کر سکے ۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص : فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج (الی قولہ) فقال أصحابنا : ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين، لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف یملکہ الحکمان۔اھ(2/ 239) ۔
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق اھ ۔(6/ 173) ۔
و فی در المختار : ( و لا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) اھ ۔
و فی الشامیۃ : ( قوله : للشقاق ) أي لوجود الشقاق و هو الاختلاف و التخاصم ، و في القهستاني عن شرح الطحاوي : السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوابينهما ، فإن لم يصطلحاجازالطلاق و الخلع اھ و هذا هو الحكم المذكور في الآية ، و قد أوضح الكلام عليه في الفتح اھ (3/ 441)۔