ہم ایزی پیسہ یا جاز کیش کا کام کرتے ہیں ، کسٹمر سے (10)دس روپے اوپر لیتے ہیں(1000)ایک ہزار روپے ڈالنے پر یا بھیجنے پر ، "یہ ہمارےاپنے چارجز ہوتے ہیں"یہ بول کے لیتے ہیں، کیوں کہ کمپنی لاکھ پر (200) دو سو روپے دیتی ہے ، پچھلے ایک سال تک تو کچھ نہیں دے رہی تھی ، یعنی" زیرو"منافع ، یہ ہمارے لئے بول کر لینا جائز ہے ؟ براہِ کرم مسئلہ بتادیجیئے۔
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ، تا ہم اگر سائل ایزی پیسہ یا جاز کمپنی کا ریٹیلر ہو اور رقوم کی ترسیل اور وصولی پر اسے کمپنی کی طرف سے کمیشن دیا جارہا ہو اور کمپنی کی طرف سے اس کام پر لوگوں(کسٹمرز) سے پیسے لینے کی اجازت نہ ہو تو سائل کیلئے لوگوں سے کمیشن وصول کرنا درست نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما فی البحر الرائق : لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي ۔(5/44)۔
و فی ردالمحتار : قال في التتارخانية : و في الدلال و السمسار يجب أجر المثل ، و ما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم ۔(6/63)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0