کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ میرے والدِ مرحوم نے اپنی زندگی میں اکیس کنال زمین اپنی دوسری بیوی کے نام انتقال کی تھی، یہ انتقال تحریری طور پر کاغذی کاروائی میں تو والدہ کے نام پر تھا، لیکن جب تک والد صاحب حیات تھے تو وہ زمین اور اسکے حاصلات وغیرہ والد صاحب کے ہی زیرِ استعمال تھے، والد صاحب کی وفات کے بعد والدہ نےپھراپنی زندگی میں ہوش وحواس میں باہمی رضامندی سے زمین فروخت کرکے رقم اپنی سگی اور سوتیلی اولاد میں شرعی طور پر تقسیم کردی، ایک ماہ بعد والدہ نے سوتیلی اولاد سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کر دیا، کیا اس طرح رقم کی واپسی کیلئے رجوع ہوسکتا ہے؟ نیز والد صاحب کے انتقال کے وقت اُنکے ورثاء میں ایک بیوہ، سات بیٹے اور چار بیٹیاں موجود تھیں۔
سائل کے والدِ مرحوم نے اپنی حیات میں اپنی مذکور جائیداد صرف کاغذات وغیرہ میں اپنی بیوی کے نام کی ہو ، باقاعدہ مالکانہ قبضہ و تصرف کے ساتھ حوالہ نہ کی ہو اور تا حیات مذکور جائیداد والدِ مرحوم کے ہی زیرِ تصرف رہی ہو تو فقط کاغذات میں بیوی کے نام جائیداد کا انتقال کر دینے سے یہ ہبہ (گفٹ) تام نہیں ہوا ، لہذا سائل کی سوتیلی والدہ مذکور جائیداد کی مالک نہیں بنی، بلکہ مذکور زمین سائل کےوالد کی ملکیت میں رہ کر اب انکے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح اُنکے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی، چنانچہ اگر بیوہ نے اپنے مرحوم شوہر کا ترکہ حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کر دیا تھا (جیساکہ سوال میں مذکور ہے) تو ہر ایک وارث اپنے حصہ کا مالک بن چکا، اس لئے اب بیوہ کا اپنی سوتیلی اولاد سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة۔اھ (5/689)
وفی الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية۔اھ (5/690)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2