میرا ایک دوست چند سالوں سے علمِ نجوم کو لےکر کافی مشہور ہو رہا ہے، بظاہر ترقی نظر آرہی ہے،پہلے وہ نوکری پیشہ تھا، ٹی وی پہ بھی آتا ہے،آپ کچھ تفصیل سے بتا دیں کہ یہ کام اور آمدنی حلال ہے یا حرام ؟ آپ کا جواب میں اس کو دکھانا چاہتا ہوں۔
سائل نے اپنے مذکور دوست کے عقائد کے متعلق وضاحت نہیں کی تاکہ اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاتا ۔
جہاں تک علمِ نجوم کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بات ذہن نشین رہے ،کہ علمِ نجوم (یعنی ستاروں اور ان کی گردش) سے دو کاموں میں مدد لی جاتی ہے، ایک حساب میں اور دوسرا استدلال میں،علمِ نجوم سے شرعی اَحکام میں مدد لینا شرعاً جائز بلکہ مستحب ہے، مثلاً نماز کے اوقات معلوم کرنا ، قبلہ کا رخ معلوم کرنا وغیرہ، علمِ نجوم سے ضروریات پوری کرنے کے لئے یا سہولت پیدا کرنے کے لئے مختلف تجربے کرنا، اور ان تجربوں کی روشنی میں استدلال کرنا بھی جائز ہے۔
البتہ علمِ نجوم کو دنیوی چیزوں یا واقعات میں مؤثرِ حقیقی سمجھنا یا اس طور پر استعمال کرنا جس سے لوگوں کے عقیدے خراب ہونے کا اندیشہ ہو ،اورلوگوں کے ہاتھ دیکھ کر اس کے ذریعہ لوگوں کو مستقبل کےحالات وغیرہ بتانا یہ ناجائز و حرام ہےاور اس کے بدلے ملنی والی کمائی بھی حرام ہوگی ،لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی سنن ابن ماجہ : حدثنا أبو بكر قال : حدثنا يحيى بن سعيد ، عن عبيد الله بن الأخنس ، عن الوليد بن عبد الله ، عن يوسف بن ماهك ، عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: «من اقتبس علما من النجوم، اقتبس شعبة من السحر زاد ما زاد»(2/1228)۔
و فی الرد : (قوله : و التنجيم) هو علم يعرف به الاستدلال بالتشكلات الفلكية على الحوادث السفلية . اهـ ح . و في مختارات النوازل لصاحب الهداية أن علم النجوم في نفسه حسن غير مذموم ، إذ هو قسمان : حسابي و إنه حق ، و قد نطق به الكتاب . قال الله تعالى - {الشمس و القمر بحسبان} [الرحمن: 5]- أي سيرهما بحساب . و استدلالي بسير النجوم و حركة الأفلاك على الحوادث بقضاء الله تعالى و قدره ، و هو جائز كاستدلال الطبيب بالنبض من الصحة و المرض و لو لم يعتقد بقضاء الله تعالى أو ادعى الغيب بنفسه يكفر، ثم تعلم مقدار ما يعرف به مواقيت الصلاة و القبلة لا بأس به . اهـ . و أفاد أن تعلم الزائد على هذا المقدار فيه بأس بل صرح في الفصول بحرمته و هو ما مشى عليه الشارح . و الظاهر أن المراد به القسم الثاني دون الأول ؛ و لذا قال في الإحياء : إن علم النجوم في نفسه غير مذموم لذاته إذ هو قسمان إلخ ثم قال و لكنه مذموم في الشرع . و قال عمر : تعلموا من النجوم ما تهتدوا به في البر و البحر ثم امسكوا ، اھ(1/44)۔