شیخ عاصم الحکیم کےنزدیک نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان دینے کے بارے میں حدیث ضعیف ہے، اس لئے یہ بدعت ہے ,حنفی مسلک کے نزدیک اس کا کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ حدیث ضعیف ہے؟
سائل نے مذکور ضعیف حدیث ذکر نہیں کی تا کہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم جہاں تک نومولود بچہ/بچی کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کا تعلق ہے تو یہ عمل مسنون و مستحب ہے ،جمہور ائمہ اس کے قائل ہیں ، نیز شوافع اور حنابلہ کے ہاں بھی یہ عمل مسنون ہے ، خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حسن کی ولادت پر ان کے کان میں اذان کہی تھی ، چنانچہ ترمذی شریف میں یہ روایت موجود ہے کہ : عن عبيد الله بن أبي رافع ، عن أبيه قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أذن في أذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة . هذا حديث حسن صحيح و العمل علیہ(سنن الترمذي ت بشار(3/ 149)-
ترجمہ: حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان (حضرت حسن رضی اللہ عنہ) کے کان میں نماز والی اذان دیتے ہوئے دیکھا۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر "حسن صحیح" کا حکم لگایا ہے ، اور یہ بھی کہا کہ اس پر امت کا عمل رہا ہے ، اسی طرح اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے "المستدرک" میں نقل کر کے اسے "صحیح الاسناد" قرار دیا ہے۔
لہذا ہر دور میں اس پر امت کا عمل رہا ہے اور علماء ,فقہاء و محدثین نے اپنی کتب میں اسے نقل کیا اور مستحب قرار دیا ، چنانچہ اس عمل کو بدعت کہنا جائز نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی المستدرك على الصحيحين للحاكم : عن عبيد الله بن أبي رافع ، عن أبيه رضي الله عنه قال : «رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أذن في أذن الحسين حين ولدته فاطمة رضي الله عنها» هذا حديث صحيح الإسناد ، و لم يخرجاه "(3/ 197)-
و فی المجموع شرح المهذب : السنة أن يؤذن في أذن المولود عند ولادته ذكرا كان أو أنثى و يكون الأذان بلفظ أذان الصلاة لحديث أبي رافع الذي ذكره المصنف* قال جماعة من أصحابنا يستحب أن يؤذن في أذنه اليمنى ويقيم الصلاة في أذنه اليسرى(8/ 442)-
و فی كشاف القناع عن متن الإقناع : (و) سن أن (يؤذن في أذن المولود اليمنى) ذكرا كان أو أنثى (حين يولد و) أن (يقيم في اليسرى) لحديث أبي رافع قال «رأيت رسول الله - صلى الله عليه و سلم - أذن في أذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة» رواه أبو داود و الترمذي و صححاه(3/ 28)-
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : و المعنى أذن بمثل أذان الصلاة و هذا يدل على سنية الأذان في أذن المولود و في شرح السنة : روي أن عمر بن عبد العزيز - رضي الله عنه - كان يؤذن في اليمنى و يقيم في اليسرى إذا ولد الصبي . قلت : قد جاء في مسند أبي يعلى الموصلي عن الحسين - رضي الله عنه - مرفوعا : «من ولد له ولد فأذن في أذنه اليمنى و أقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان» " كذا في الجامع الصغير للسيوطي رحمه الله . (7/ 2691)-
و فی الموسوعة الفقهية الكويتية : ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه يسن الأذان في الأذن اليمنى للمولود و الإقامة في اليسرى(45/ 295)-
و فیہ ایضاً : ذهب الفقهاء في الجملة إلى أنه يستحب الأذان في أذن المولود اليمنى حين يولد و الإقامة في أذنه اليسرى(39/ 348)-
و فی تقریرات الرافعی: قال السندی رحمہ اللہ تعالی : فیرفع المولود عند ولادۃ علی یدیہ مستقبل القبلہ و یؤذن فی اذنہ الیمنی و یقیم فی الیسری(1/45)-
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1