فاتحہ پر جاکر تلاوت، پھر دعا کرنا اور واپسی پر ہر جانے والے کیلئے تمام لوگوں کا ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنا از روئے شریعت جائز ہے؟
فاتحہ یا تعزیت پر جاکر میت کے حق میں تلاوت کرنا یا دعائیہ کلمات کہنا مستحب عمل ہے، البتہ ہاتھ اُٹھانے کا باقاعدہ طور پر اہتمام کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے، لہٰذا ضروری نہ سمجھا جائے اور برا بھی نہ سمجھا جائے اس لئے کہ نفس دعا ثابت ہے۔
وفی الدر المختار: وبتعزیۃ اہلہ وترغیبہم فی الصبر وباتخاذ طعام لہم وبالجلوس لہا فی غیر مسجد ثلاثۃ أیام، وأولہا أفضل، وکرہ بعدھا إلا لغائب (إلی قولہ) ویقول: عظم اللہ أجرک، وأحسن عزاءک وغفر لمیتک۔ الخ (ج۲، ص۲۳۹، ۲۴۰)۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ وبتعزیہ أہلہ) أی تصبیرہم والدعاء لہم بہ (إلی قولہ) قال فی شرح المنیۃ: وتستحب التعزیہ للرجال والنساء اللاتی لا یفتن لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ’’من عز أخاہ لمصیبۃ کساہ اللہ من حلل الکرامۃ یوم القیامۃ‘‘ رواہ ابن ماجہ، وقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ’’من عزی مصابًا فلہ مثل أجرہ‘‘۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ۔ (ج۲، ص۲۳۹، ۲۴۰)۔
وفی الدر المختار: وفی الحدیث من قرأ الإخلاص احد عشر مرۃ ثم وہب أجرہا للأموات أعطی من الأجر بعدد الأموات۔ (ج۲، ص۲۴۳)
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1