کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بشیر احمد کی چار اولاد ہیں، جن میں دو بیٹے (کامران،نورمان)اور دو بیٹیاں(مدیحہ،ملیحہ) ہیں اور ایک بیوی(عابدہ خاتون) ہے،بشیر احمد کے ایک بیٹے (کامران)کا انتقال اسکی زندگی میں ہوا، اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے،جبکہ اسکی بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہو گیا تھا، پھر بشیر احمد کی بیوی(عابدہ خاتون) کا انتقال ہوا، اسکے بعد بشیر احمد کا انتقال ہوا، پھر دوسرے بیٹے (نورمان)کا انتقال ہوا، جسکا ایک بیٹااور ایک بیٹی ہے،جبکہ اسکی بیوی کا انتقال بھی مرحوم کی زندگی میں ہوا تھا، اب مرحوم بشیر احمد کی دو بیٹیاں زندہ ہیں،ایک بیٹی(مدیحہ) شادی شدہ ہے،لیکن اس کے بچے نہیں ہیں،اور دوسری غیر شادی شدہ ہے،جائیداد کی تقسیم کیسے ہو گی۔
واضح ہو کہ مورث کی حیات میں اگر کسی وارث کا انتقال ہو جائے تو دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں وہ وارث اور اس کے پسماندگان، مورث کی وراثت میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوتے بلکہ محروم ہو جاتے ہیں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم بشیر احمد کےجس بیٹے (مرحوم کامران) کا انتقال والدین کی حیات میں ہوا ہے، اسکی اولاد اپنے دادا،دادی مرحومین کےترکے میں شرعاً حصہ دار نہ ہو گی،البتہ دیگر ورثاء اگرمرحوم (کامران)کی اولاد کو اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہیں تو اسکا انہیں اختیار ہے۔
اسکے بعد واضح ہوکہ نورمان مرحوم کے والدین کا ترکہ اصول میراث کے مطابق انکے مذکور ورثاء میں اسطرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحومین نے بوقتِ انتقال اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا،چاندی،زیورات،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کوئی واجب الاداء قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں، اُس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1) حصے کی حد تک اُس پر عمل کریں، اُس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (12) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحومین کی ہر بیٹی کوتین(3)حصے،پوتے(مرحوم نورمان کے بیٹے)کو چار(4)حصےاور پوتی(مرحوم نورمان کی بیٹی)کو دو(2) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2