ایک کال سینٹر میں کام کرنا جو کلائنٹس کو کال کرتا ہے کہ وہ اپنی ونڈو کار ٹھیک کروائیں تو کیا اس کی ادائیگی انشورنس کے ذریعے سے حلال ہے؟ یہ جانتے ہوئے کہ انشورنس فرانس میں ہے اور شاید حلال نہیں ہے۔
واضح ہوکہ مروجہ انشورنس ربوٰ (سود) قمار (جوا) اور غرر (غیر یقینی کیفیت) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، لہذا کال سینٹر میں اس طرح کی ذمہ داری لینا کہ جس میں کلائنٹس کو کال کرکے انہیں انشورنس کروانے کی ترغیب دی جاتی ہو، تعاون علی المعصیۃ ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں، اور اس کام پر ملنے والی تنخواہ بھی حلال و طیب نہ ہوگی۔
کما قال اللہ تعالیٰ: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة:2]
وفی أحكام القرآن للجصاص: يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال ابن عباس إن المخاطرة قمار۔اھ (2/ 11)-
وفیه أیضاً: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى۔اھ (3/ 296)