کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ والدِ مرحوم کا انتقال ہوچکا ہے ، بوقت انتقال ان کے ورثاء میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں موجود تھیں، بیوی کا انتقال پہلے ہی ہو گیا تھا ، دادا ، دادی کا بھی پہلےہی انتقال ہوچکا تھا ، پھر ایک بیٹےمسمیٰ محمد پرویز کا انتقال ہوگیا ، ان کے ورثاء میں بیوہ ، دو بیٹے اور دوبیٹیاں موجود ہیں ، اب ،معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے والد مرحوم کا ترکہ ان کے ورثاء کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے گا ؟
سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور جائیداد سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض ہو تو اس کی ادائیگی کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سو بیانوے (192) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو اڑتالیس (48)حصے، مرحوم کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو چوبیس(24) حصے ، مرحوم کے دونوں پوتوں (مرحوم محمد پرویزکے بیٹوں ) میں سے ہر ایک کو چودہ(14) حصے، مرحوم کی دونوں پوتیوں(مرحوم محمد پرویزکی بیٹیوں ) میں سے ہر ایک کو سات (7) حصے ، جبکہ مرحوم کی بہو (مرحوم محمد پرویزکی بیوہ ) کو چھ (6) حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2